لاہور: پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے صوبے میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی مہم کے دوران گزشتہ ایک سال میں 35 ہزار نئے کاروبار رجسٹر کیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق پی آر اے چیئرمین معظم اقبال سپرا نے کاروباری رجسٹریشن اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے اہداف سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ صرف نئے ٹیکس دہندگان کا اندراج کافی نہیں بلکہ ریٹرن، انوائس اور ادائیگیوں کی شفاف نگرانی بھی یقینی بنائی جائے۔

چیئرمین نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ پی آر اے کے منصوبے کے تحت ایسے کاروبار جن کی ماہانہ فروخت 5 لاکھ روپے تک ہے، انہیں الیکٹرانک انوائس مانیٹرنگ سسٹم، یعنی ای-آئی ایم ایس، سے منسلک کرنے پر کام کیا جائے گا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد لین دین اور ٹیکس ادائیگیوں کا زیادہ شفاف ریکارڈ بنانا اور ٹیکس نظام میں ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال بڑھانا ہے۔

اجلاس میں متعلقہ افسران کو مرکزی مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے ٹیکس ریٹرنز اور انوائسز کی مؤثر نگرانی کی ہدایات بھی دی گئیں۔ پی آر اے کے مطابق رجسٹریشن مہم کا مقصد محض ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ ایسے کاروباری ریکارڈ قائم کرنا ہے جن کے ذریعے حقیقی معاشی سرگرمی اور واجب الادا ٹیکس کو بہتر انداز میں جانچا جا سکے۔

چیئرمین پی آر اے نے صوبائی کمشنرز کو کاروباری برادری کے لیے ٹیکس قوانین، رجسٹریشن اور تعمیل سے متعلق آگاہی نشستیں منعقد کرنے کی ہدایت کی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کاروبار نئے ڈیجیٹل طریقہ کار اور قانونی ذمہ داریوں کو سمجھ سکیں اور ریٹرن یا انوائس جمع کرانے کے مراحل میں غلطیوں اور عدم تعمیل کو کم کیا جا سکے۔

پی آر اے صوبائی سطح پر خدمات پر سیلز ٹیکس اور اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے دیگر محصولات کی وصولی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ نئے کاروباروں کی رجسٹریشن اس کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے صوبائی حکومت رسمی معیشت کا دائرہ وسیع کرنا اور ٹیکس وصولی کے عمل میں ڈیجیٹل نظام کا استعمال بڑھانا چاہتی ہے۔ تاہم 35 ہزار رجسٹریشن کا عدد یہ ثابت نہیں کرتا کہ تمام کاروباروں نے یکساں رقم کا ٹیکس ادا کیا یا ان کی تعمیل کی سطح ایک جیسی ہے؛ رجسٹریشن اور حقیقی ٹیکس وصولی الگ پیمانے ہیں۔

پی آر اے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے تحت ٹیکس دہندگان کے لیے نسبتاً آسان، شفاف اور جدید ڈیجیٹل نظام بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اگلا اہم مرحلہ نئے رجسٹرڈ کاروباروں کی فعال تعمیل، ای-انوائس نظام سے مزید اداروں کا انضمام اور مرکزی نگرانی کے ذریعے ریٹرنز کی جانچ ہوگا۔ اس عمل کی کامیابی کا زیادہ واضح اندازہ مستقبل میں ٹیکس وصولی، فعال فائلرز اور تعمیل کے اعداد سے ہوگا۔