لاہور: پنجاب حکومت نے شدید سموگ کے موسم سے پہلے فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف پیشگی کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ صوبائی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے متعلقہ محکموں، بلدیاتی اداروں اور ترقیاتی ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ تعمیراتی دھول، خشک صفائی، فصلوں کی باقیات اور کچرا جلانے، اینٹوں کے بھٹوں اور گاڑیوں کے اخراج کے خلاف موجود قواعد پر سختی سے عمل کرایا جائے۔
ڈان کے مطابق پنجاب، خصوصاً لاہور، میں ہر سال اکتوبر سے جنوری کے دوران سموگ کی شدت بڑھتی ہے۔ تازہ ہدایات کا مقصد اس بار ہوا کا معیار خراب ہونے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے آلودگی کے ذرائع کو پہلے ہی محدود کرنا ہے۔ ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ نیئر شیخ نے ستھرا پنجاب اتھارٹی کو خشک جھاڑو کا طریقہ ترک کرکے مکینیکل یا گیلی صفائی اختیار کرنے کی ہدایت کی، کیونکہ خشک صفائی سے سڑکوں پر جمی دھول دوبارہ فضا میں شامل ہو کر پی ایم 10 اور پی ایم 2.5 ذرات میں اضافہ کرتی ہے۔
ایجنسی نے کھلے مقامات پر ٹھوس کچرا، پتے اور سڑک کنارے فضلہ جلانے کی ممانعت پر بھی سخت عمل درآمد کا کہا ہے۔ تعمیراتی منصوبوں کے لیے پانی کا چھڑکاؤ، تعمیراتی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو ڈھانپنا اور دھول روکنے والی رکاوٹیں نصب کرنا مقررہ اقدامات میں شامل ہیں۔ ای پی اے نے تجویز دی ہے کہ دھول کنٹرول کے ضابطوں کی پابندی کو منصوبوں کی منظوری اور عمل درآمد کی شرائط کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے انتظامیہ کو گزشتہ سال کی انسداد سموگ حکمت عملی مزید مضبوط کرنے اور فصلوں کی باقیات کو جدید مشینری سے ٹھکانے لگانے کی ہدایت کی ہے۔ زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر چلنے والے بھٹوں، دھواں خارج کرنے والے ریسٹورنٹس و باربی کیو مقامات اور لاہور میں داخل ہونے والی بھاری و ہلکی گاڑیوں کی نگرانی بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ موٹر سائیکلوں کے اخراج کی مسلسل جانچ کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق سیف سٹی کیمروں، تھرمل امیجنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کو خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے زیادہ استعمال کیا جائے گا۔ ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار مسلسل نفاذ، قابل اعتماد فضائی معیار کے ڈیٹا اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان عملی رابطے پر ہوگا؛ صرف ہدایات جاری ہونا فضائی آلودگی میں کمی کی ضمانت نہیں ہے۔




