کٹھمنڈو: نیپال نے اگست کے آخر میں آنے والے تباہ کن ہمالیائی سیلاب کے بعد تعمیر نو اور بحالی کے لیے تقریباً 5 ارب ڈالر کی بین الاقوامی امداد حاصل کرنے کی مہم شروع کی ہے اور حکومت اس مطالبے کو ’موسمی انصاف‘ کے اصول سے جوڑ رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق نیپالی حکام عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اہم سفارتی شراکت داروں کے سامنے نقصان اور مالی ضروریات کا تفصیلی مقدمہ پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک ہمالیائی گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والی تباہی نے نیپال اور تبت کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ کم از کم 1,300 افراد کی ہلاکت اور 5,300 سے زیادہ افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا اور نیپال میں 12 پن بجلی منصوبے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

نیپالی حکام کا موقف ہے کہ ملک عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں بہت معمولی حصہ رکھتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں گلیشیئر، شدید بارش اور سیلاب جیسے خطرات کا غیر متناسب بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ اسی بنیاد پر حکومت زیادہ اخراج کرنے والی بڑی معیشتوں اور عالمی مالیاتی اداروں سے تعمیر نو میں زیادہ ذمہ داری لینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

حکام ایک جامع نقصان اور مالی ضروریات کی رپورٹ مکمل کر رہے ہیں تاکہ امدادی اپیل کو منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی بحالی اور متاثرہ آبادیوں کی ضروریات سے جوڑا جا سکے۔ نیپال کے وزیراعظم بلندر شاہ سے توقع ہے کہ وہ 24 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران بھی موسمیاتی انصاف اور حالیہ تباہی کا معاملہ اٹھائیں گے۔

عالمی موسمیاتی مذاکرات میں طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ کم اخراج کرنے والے مگر زیادہ متاثرہ ممالک کو ’نقصان اور خسارے‘ کی مالی مدد کس رفتار اور کس حجم میں ملنی چاہیے۔ نیپال کی تازہ اپیل اسی وسیع بحث کا عملی امتحان بن سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ فوری بحالی کے ساتھ طویل مدتی محفوظ انفراسٹرکچر کی ضرورت بھی سامنے آئی ہے۔

پانچ ارب ڈالر کی رقم نیپال کی درخواست اور اندازہ ہے؛ اس پوری رقم کی منظوری یا ادائیگی کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔ عالمی اداروں اور شراکت دار حکومتوں کے فیصلوں کے بعد ہی واضح ہوگا کہ نیپال کو کتنی مالی مدد، کس شکل میں اور کس مدت میں دستیاب ہوگی۔