اسلام آباد: پاکستان نے شارک مچھلیوں کے تحفظ اور انتظام کے لیے اپنا پہلا قومی ایکشن پلان متعارف کرا دیا ہے۔ وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری کے مطابق دس سالہ نیشنل پلان آف ایکشن فار دی کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ آف شارکس کا ہدف 2035 تک پاکستانی سمندری حدود میں شارک کی کم ہوتی آبادی کی بحالی، غیر قانونی فننگ کی روک تھام، غیر ارادی شکار یعنی بائی کیچ میں کمی اور اہم سمندری مساکن کا تحفظ ہے۔
منصوبے میں ماہی گیری کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے پائیدار انتظام کی سمت لے جانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت شارک کی مختلف اقسام کے بارے میں بہتر ڈیٹا جمع کرنا، پکڑی جانے والی مقدار کی نگرانی، غیر قانونی تجارت اور فننگ کے خلاف نفاذ، حساس علاقوں کی شناخت اور ماہی گیروں کے ساتھ مل کر ایسے طریقے اپنانا شامل ہوں گے جن سے غیر مطلوب شارک شکار کم کیا جا سکے۔
پاکستان کے ساحلی اور گہرے سمندری پانیوں میں شارک ماحولیاتی نظام کے اہم شکاری جاندار ہیں اور خوراکی زنجیر کے توازن میں کردار ادا کرتے ہیں۔ دستیاب ماحولیاتی جائزوں میں طویل مدت کے دوران شارک لینڈنگز میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے ایک جائزے کے مطابق پانچ دہائیوں میں شارک لینڈنگز میں 85 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جو بہتر نگرانی اور تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
قومی ایکشن پلان کا اعلان بین الاقوامی ذمہ داریوں اور سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی وسیع کوششوں سے بھی جڑا ہے۔ شارک کی متعدد اقسام آہستہ افزائش کرتی ہیں، اس لیے ضرورت سے زیادہ شکار کے بعد ان کی آبادی کو بحال ہونے میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے سائنسی ڈیٹا، قابل عمل ماہی گیری قواعد اور مؤثر نفاذ کو منصوبے کی کامیابی کے لیے بنیادی عناصر سمجھا جا رہا ہے۔
حکومت نے فی الحال منصوبے کے اہداف اور سمت کا اعلان کیا ہے؛ اس کے نتائج کا انحصار وفاقی و صوبائی اداروں، ساحلی برادریوں، ماہی گیروں، تحقیقاتی اداروں اور نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان مسلسل تعاون پر ہو گا۔ آئندہ برسوں میں آبادی کے سائنسی اشاریے، بائی کیچ کی شرح، غیر قانونی فننگ کے مقدمات اور محفوظ مساکن کی حالت یہ جانچنے کے اہم پیمانے ہوں گے کہ قومی منصوبہ عملی طور پر کس حد تک مؤثر ثابت ہوتا ہے۔




