پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلات نے نوشہرہ ضلع کے سپین خاک علاقے میں پیری اربن فاریسٹری منصوبے کے تحت 10 ہزار کنال رقبے پر تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ڈان کے مطابق پشاور فارسٹ ڈویژن کے ڈویژنل فارسٹ افسر محمد شکیل نے بتایا کہ شجرکاری کا یہ مرحلہ مارچ 2027 تک رقبے کو کور کرنے کے لیے جاری رہے گا اور لگائے گئے پودوں کی چار سال تک دیکھ بھال بھی منصوبے میں شامل ہے۔
سپین خاک میں بڑے پیمانے کی شجرکاری مہم کا افتتاح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 14 اگست کو کیا تھا۔ بعد ازاں 6 ستمبر کو یوم دفاع شجرکاری مہم کے تحت پشاور فارسٹ ڈویژن نے اسی مقام پر کم از کم 50 ہزار مزید پودے لگائے۔ حکام کے مطابق مجموعی منصوبہ پشاور ری وائیٹلائزیشن پلان کے تحت کیا جا رہا ہے، جس میں شہری اور مضافاتی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے سبز رقبہ بڑھانے کو ایک اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ منصوبے میں صرف پودے لگانے کے بجائے ان کی بقا اور مسلسل نگہداشت پر بھی توجہ دی جائے گی۔ پاکستان میں شجرکاری مہمات کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ لگائے گئے پودوں کی تعداد کے ساتھ ان کی سروائیول ریٹ بھی ہوتا ہے، اس لیے چار سالہ نگہداشت کا وعدہ منصوبے کے نتائج کے لیے اہم ہوگا۔ دستیاب رپورٹ میں ابھی کسی آزادانہ سروائیول آڈٹ یا مکمل شدہ شجرکاری کے نتائج موجود نہیں، کیونکہ منصوبہ جاری ہے۔
پیری اربن جنگلات کا مقصد بڑے شہروں اور ان کے گردونواح میں درختوں اور سبز مقامات کا دائرہ بڑھانا ہوتا ہے، جس سے مقامی سطح پر درجہ حرارت، دھول، مٹی کے کٹاؤ اور فضائی معیار جیسے ماحولیاتی عوامل پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص مقدار میں درجہ حرارت یا آلودگی میں کمی کا دعویٰ اس منصوبے کے موجودہ مرحلے پر دستیاب اعداد سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
سپین خاک کا منصوبہ رقبے اور ہدف شدہ پودوں کی تعداد کے اعتبار سے صوبے کی نمایاں مضافاتی شجرکاری کوششوں میں شامل ہے۔ حکام نے مارچ 2027 تک 10 ہزار کنال پر شجرکاری مکمل کرنے اور مجموعی طور پر ساڑھے پانچ لاکھ درخت لگانے کا ہدف بتایا ہے۔ آنے والے مراحل میں پودوں کی بقا، پانی کی دستیابی، مقامی انواع کے انتخاب، چراگاہی دباؤ اور نگہداشت کے عملی انتظامات اس منصوبے کی کامیابی کا تعین کریں گے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ منصوبہ شروع ہو چکا ہے، یوم دفاع پر 50 ہزار پودوں کا ایک اضافی مرحلہ لگایا گیا اور محکمہ جنگلات نے مارچ 2027 تک مقررہ رقبہ مکمل کرنے کا شیڈول دیا ہے۔ حتمی ماحولیاتی اثرات اور شجرکاری کی کامیابی کا جائزہ منصوبے کی تکمیل اور بعد کی نگرانی سے ممکن ہوگا۔




