پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے زیر زمین پانی کی گرتی سطح کو بہتر بنانے اور پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت نئے ترقیاتی منصوبوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام کی تنصیب لازمی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منصوبے میں کار واش اسٹیشنوں اور گھریلو استعمال سے نکلنے والے پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے ری سائیکلنگ کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے میں اب تک 45 لاکھ لیٹر سے زیادہ بارش کا پانی زیر زمین آبی نظام میں کامیابی سے ری چارج کیا جاچکا ہے۔ تمام 37 اضلاع سے بارش کے پانی کے ذخیرے کے ممکنہ مقامات کا ڈیٹا جمع کیا گیا اور مجموعی طور پر 62 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان 62 منصوبوں میں سے 54 مکمل کیے جاچکے ہیں جبکہ چار مقامات پر کام جاری ہے۔ بارش کے پانی کو براہ راست زیر زمین پہنچانے کے لیے 52 ری چارج کنویں قائم کیے گئے، جن میں سے 49 کو مکمل طور پر فعال بتایا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار صوبائی حکومت کی دستاویزات اور حکام کے بیان پر مبنی ہیں۔

منصوبے کا بنیادی مقصد بارش کے پانی کو بہہ کر ضائع ہونے سے روکنا اور اسے زیر زمین ذخائر کی بحالی کے لیے استعمال کرنا ہے۔ شہری علاقوں میں تیزی سے تعمیرات، پانی کے بڑھتے استعمال اور ٹیوب ویلوں پر انحصار کے باعث زیر زمین پانی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، اس لیے ری چارج ڈھانچے پانی کے مقامی انتظام کا ایک طریقہ ہیں۔ تاہم کسی بھی ضلع میں زیر زمین پانی کی سطح میں حقیقی اور دیرپا بہتری جانچنے کے لیے مسلسل ہائیڈرولوجیکل مانیٹرنگ درکار ہوگی۔

حکومت نے مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں میں رین واٹر اسٹوریج کو لازمی بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس پالیسی کی عملی شکل، عمارتوں یا منصوبوں کے لیے تکنیکی معیار، نفاذ کی تاریخ اور خلاف ورزی کی صورت میں ضابطہ کار کی مکمل تفصیلات دستیاب رپورٹ میں بیان نہیں کی گئیں۔ اسی طرح کار واش اور گھریلو پانی کی ری سائیکلنگ کے لیے نفاذ کا تفصیلی ریگولیٹری فریم ورک بھی مزید سرکاری ہدایات سے واضح ہوگا۔

صوبائی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات مستقبل میں ممکنہ پانی کی قلت سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف نئے ری چارج ڈھانچوں کی تعداد پر نہیں بلکہ ان کی دیکھ بھال، پانی کے معیار، مقامی زمینی ساخت اور زیر زمین پانی کی سطح کی باقاعدہ پیمائش پر بھی ہوگا۔ موجودہ پیش رفت صوبے میں پانی کے تحفظ کو ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنانے کی ایک عملی کوشش کی نشاندہی کرتی ہے۔