جکارتہ: انڈونیشیا کے بورنیو اور سماٹرا میں خشک جنگلات اور پیٹ لینڈ میں پھیلنے والی آگ سے کاربن اخراج میں تیز اضافہ ہوا ہے، اور یورپی یونین کے کوپرنیکس موسمیاتی نگرانی نظام کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے ابتدائی ہفتے میں ملک دنیا میں آگ سے پیدا ہونے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔
روئٹرز کے مطابق فائر ایمیشنز واچ کے ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ یکم سے 7 ستمبر کے دوران انڈونیشیا میں آگ سے تقریباً 19.7 ملین میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوئی۔ یہ مقدار روس سے زیادہ رہی اور اسی عرصے کے عالمی مجموعی اخراج کا ایک تہائی سے زائد بنتی ہے۔
آگ کا بڑا دباؤ بورنیو کے کلیمنتان خطے اور مشرقی سماٹرا میں دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق شدید گرمی اور خشک سالی نے صورتحال کو بگاڑا ہے، جبکہ موجودہ مضبوط ال نینو حالات نے خطے میں بارش کم اور زمین کو زیادہ خشک کر دیا ہے۔ پیٹ لینڈ میں آگ سطح کے نیچے بھی سلگ سکتی ہے، جس کے باعث اس کا سراغ لگانا اور بجھانا عام جنگلاتی آگ کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
کوپرنیکس سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق انڈونیشیا میں موجودہ آگ کا اخراج معمول کے موسمی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ بعض علاقوں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس سے صحت عامہ، نقل و حمل اور مقامی معیشت کے لیے اضافی خطرات پیدا ہوئے ہیں۔ ستمبر کے آغاز تک ہزاروں ہاٹ اسپاٹس ریکارڈ کیے گئے تھے۔
انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں خشک موسم میں جنگلات اور پیٹ لینڈ کی آگ بار بار بڑے ماحولیاتی بحران کا سبب بنتی ہے۔ 2015 میں بھی شدید آگ نے وسیع خطے میں دھواں پھیلایا تھا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خشک حالات برقرار رہے تو آگ اور اخراج اکتوبر تک مزید بڑھ سکتے ہیں۔
موجودہ اعداد و شمار سیٹلائٹ اور ماڈلنگ پر مبنی اخراجی تخمینے ہیں، اس لیے انہیں زمینی سطح پر ہر آگ کی براہ راست پیمائش نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ تاہم مختلف نگرانی ذرائع ایک ہی سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اس سال انڈونیشیا کا آگ کا موسم غیر معمولی طور پر شدید ہے اور اس کے اثرات مقامی فضائی معیار سے بڑھ کر عالمی کاربن اخراج تک پہنچ رہے ہیں۔




