اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو ملک میں موسمیاتی خطرات کے مقابلے کی صلاحیت کا جامع آڈٹ کرنے اور مون سون 2027 کی تیاری قبل از وقت شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق انہوں نے 8 ستمبر کو وزیراعظم کی ایمرجنسی رسپانس کمیٹی برائے مون سون تیاری 2026 کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، واپڈا، وفاقی و صوبائی محکموں اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک بھر کی مون سون صورتحال، آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں، باقی ماندہ بحالی ضروریات اور مستقبل کے موسمیاتی ہنگامی حالات کے لیے تیاری کا جائزہ لیا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق احسن اقبال نے ترجیحی سیلابی تحفظ اسکیموں کی گرین چینل بنیاد پر پروسیسنگ، بحالی اقدامات کے آڈٹ اور عمل درآمد کی سہ ماہی نگرانی کی ہدایت کی۔ ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ شدید بارش، شہری سیلاب، گرمی کی لہروں اور خشک سالی جیسی موسمیاتی بے قاعدگیوں سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کو ردعمل کے مرحلے تک محدود رکھنے کے بجائے پیشگی تیاری سے جوڑا جائے۔
وزیر منصوبہ بندی نے وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کے درمیان رابطے کو اہم قرار دیا۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے موسمیاتی واقعات نے انفراسٹرکچر، زراعت، آبادیوں اور شہری خدمات پر دباؤ بڑھایا ہے، اس لیے سرکاری منصوبوں اور بحالی کے کاموں میں موسمیاتی لچک کے معیار کو شامل کرنا مستقبل کے نقصانات محدود کرنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ ہدایات فوری طور پر کسی ایک نئے تعمیراتی منصوبے کی منظوری نہیں بلکہ مختلف اداروں کے موجودہ اور مجوزہ اقدامات کا جائزہ، ترجیحات کا تعین اور آئندہ مون سون کے لیے منظم تیاری کا فریم ورک ہیں۔ عملی نتائج کا انحصار آڈٹ کی تکمیل، ترجیحی اسکیموں کی منظوری، فنڈنگ اور سہ ماہی جائزوں میں سامنے آنے والی پیش رفت پر ہوگا۔




