پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ جنگلات نے ضلع نوشہرہ کے سپین خاک علاقے میں بڑے پیمانے پر پیری اربن فاریسٹری منصوبے کے تحت تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ منصوبہ 10 ہزار کنال اراضی پر پھیلایا جائے گا اور محکمہ جنگلات کے مطابق شجرکاری کا مطلوبہ رقبہ آئندہ مارچ تک مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ڈان کے مطابق اس شجرکاری مہم کا آغاز وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 14 اگست کو کیا تھا، جبکہ 6 ستمبر کو پشاور فارسٹ ڈویژن نے دفاعی دن کی شجرکاری سرگرمی کے تحت اسی مقام پر کم از کم 50 ہزار مزید پودے لگائے۔ پشاور کے ڈویژنل فارسٹ افسر محمد شکیل نے بتایا کہ مجموعی طور پر 550,000 درخت لگانے کا منصوبہ ہے اور محکمہ ان کی چار سال تک دیکھ بھال کرے گا۔

یہ منصوبہ پشاور ری وائیٹلائزیشن پلان کے تحت کیا جا رہا ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق مقامی اقسام میں کیکر، شیشم اور بیری جیسے درخت شامل کیے جائیں گے، جبکہ زیتون کے ہزاروں پودے اور بعض ایسے پودے بھی شامل کرنے کا منصوبہ ہے جن سے مقامی آبادی کو معاشی فائدہ پہنچ سکے۔ اس حکمت عملی کا مقصد صرف سبز رقبہ بڑھانا نہیں بلکہ مقامی برادری کو شجرکاری کی حفاظت اور طویل مدتی دیکھ بھال میں شریک کرنا بھی بتایا گیا ہے۔

محکمہ جنگلات کی جانب سے چار سالہ نگہداشت کا وعدہ اس لیے اہم ہے کہ بڑے پیمانے کی شجرکاری میں صرف پودے لگانے کی تعداد کے بجائے ان کی بقا، پانی کی دستیابی، مقامی موسمی حالات اور بعد کی دیکھ بھال منصوبے کے ماحولیاتی نتائج کا تعین کرتے ہیں۔ موجودہ رپورٹ میں پودوں کی بقا کی حتمی شرح یا پورے منصوبے کے الگ مالی اخراجات کی تفصیلی تقسیم دستیاب نہیں۔

سپین خاک منصوبے کی پیش رفت کا قابلِ پیمائش اگلا مرحلہ 10 ہزار کنال کے ہدف تک شجرکاری کی تکمیل اور بعد میں پودوں کی بقا کی نگرانی ہوگا۔ فی الحال محکمہ جنگلات نے ساڑھے پانچ لاکھ درختوں کا ہدف، مارچ تک رقبہ مکمل کرنے کا منصوبہ اور چار سال تک دیکھ بھال کا فریم ورک بیان کیا ہے۔ ان اہداف کی تکمیل اور ماحولیاتی اثرات کا درست جائزہ بعد کی سرکاری نگرانی اور زمینی نتائج سے ممکن ہوگا۔