لاہور: پنجاب میں قیمتوں کی نگرانی کے لیے تعینات پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے 14 سے 20 ستمبر 2026 کے دوران صوبے بھر میں 427,587 مارکیٹ اور کاروباری معائنے کیے۔ سیکریٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ضروری اشیا کی مقررہ قیمتوں پر عمل درآمد، زائد وصولی اور منافع خوری کی روک تھام تھا۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں 1,634 پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے ایک ہفتے کے دوران چار لاکھ 27 ہزار سے زیادہ مقامات کا معائنہ کیا۔ حکام نے خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 114.95 ملین روپے سے زیادہ، یعنی تقریباً 11 کروڑ 49 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے۔ یہ اعداد و شمار صوبائی انتظامیہ کی جانب سے مارکیٹ نگرانی کی حالیہ مہم کے حجم کو ظاہر کرتے ہیں۔
پرائس کنٹرول کارروائیوں میں عام طور پر سرکاری نرخ ناموں کی موجودگی، اشیائے ضروریہ کی فروخت کی قیمت، ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری سے متعلق شکایات اور کاروباری ریکارڈ کا جائزہ شامل ہوتا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار میں بنیادی طور پر معائنوں اور جرمانوں کی مجموعی تعداد اور مالیت بیان کی گئی ہے؛ ہر خلاف ورزی کی نوعیت یا ہر ضلع کی الگ تفصیل رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی۔
ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق مجسٹریٹس نے مارکیٹوں اور کاروباری مقامات پر قیمتوں کی نگرانی کی اور زائد وصولی یا منافع خوری کے خلاف کارروائی کی۔ صوبائی حکومت نے حالیہ مہینوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر نظر رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو فعال رکھا ہے، جبکہ صارفین کے لیے سرکاری نرخوں کی پابندی کو مرکزی ہدف قرار دیا جاتا ہے۔
ایک ہفتے میں چار لاکھ سے زائد معائنے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مہم صوبے کے متعدد اضلاع اور بڑی تعداد میں کاروباری مراکز تک پھیلی ہوئی تھی۔ تاہم جرمانہ عائد ہونا انتظامی کارروائی ہے اور ہر کیس میں قانونی ذمہ داری یا حتمی نتیجہ متعلقہ قواعد، اپیل یا مزید کارروائی سے مشروط ہو سکتا ہے۔
حکام کے لیے اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ مسلسل نگرانی کے ساتھ یہ دیکھا جائے کہ بڑے پیمانے پر معائنوں اور جرمانوں کا بازار میں مقررہ نرخوں کی پابندی پر کیا اثر پڑتا ہے۔ صارفین کے نقطہ نظر سے قیمتوں کی شفاف نمائش، شکایات کے قابل رسائی طریقہ کار اور یکساں نفاذ پر عمل درآمد قیمت کنٹرول نظام کی مؤثریت کے بنیادی عناصر رہیں گے۔

