پنجاب حکومت نے مارچ 2027 کے دوسرے ہفتے میں صوبہ بھر میں بسنت کی تقریبات کی اجازت دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جبکہ پتنگ سازی، ڈور کی فروخت، قیمتوں اور حفاظتی ضابطوں کو قانون کے ذریعے منظم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ جیو نیوز نے 21 اکتوبر 2026 کو سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ انتظامی منصوبے میں پتنگیں تیار کرنے کے لیے مخصوص مقامات مقرر کرنے اور مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے اقدامات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کا مقصد روایتی تہوار کی اجازت کے ساتھ ان خطرات کو کم کرنا ہے جن کی وجہ سے ماضی میں پتنگ بازی پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ خاص طور پر خطرناک ڈور، موٹر سائیکل سواروں اور راہ گیروں کی حفاظت، بجلی کی تنصیبات اور غیر قانونی پتنگ سازی سے متعلق مسائل طویل عرصے سے انتظامیہ کے لیے تشویش کا باعث رہے ہیں۔ مجوزہ قانون سازی میں انہی پہلوؤں کے لیے ضابطے اور نگرانی کا نظام متعارف کرانے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق پتنگ سازی کو مخصوص مقامات تک محدود کرنے، پتنگ اور ڈور کی قیمتوں کی نگرانی اور حفاظتی شرائط پر عمل درآمد کے لیے انتظامی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ تاہم حتمی قانونی متن، اجازت ناموں کی شرائط، خلاف ورزیوں کی سزاؤں اور ضلع وار انتظامات کی مکمل تفصیل متعلقہ قانون سازی اور سرکاری نوٹیفکیشن سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

بسنت خصوصاً لاہور اور وسطی پنجاب کی ثقافتی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہے، لیکن دھاتی یا کیمیکل ڈور سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے باعث اس تہوار پر طویل عرصے سے پابندیاں اور سخت ضابطے نافذ رہے ہیں۔ اس لیے صوبہ بھر میں دوبارہ اجازت دینے کی کوئی بھی پالیسی عوامی حفاظت کے مؤثر انتظام سے براہ راست جڑی ہوگی۔

فی الحال یہ پیش رفت حکومتی منصوبہ اور ذرائع سے سامنے آنے والی انتظامی تیاری ہے۔ مارچ 2027 کی تقریبات کا حتمی دائرہ، تاریخیں اور قانونی شرائط سرکاری منظوری اور نوٹیفکیشن سے طے ہوں گی۔ شہریوں اور کاروباروں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ صرف حتمی سرکاری قواعد کو بنیاد بنائیں، کیونکہ تیاری کے مرحلے میں تفصیلات تبدیل ہو سکتی ہیں۔