لاہور: پنجاب حکومت نے فصلوں کی کٹائی کے موسم سے قبل فضائی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف صوبہ گیر کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیرِ صدارت اجلاس میں ماحولیاتی تحفظ ایجنسی، انوائرنمنٹ فورس اور متعلقہ محکموں کو صنعتی یونٹس، تعمیراتی مقامات، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، کاروباری اداروں اور بھٹوں کے خلاف قوانین کے مطابق کارروائی بڑھانے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں گزشتہ ایک سال کے دوران ماحولیاتی قوانین کے نفاذ اور محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق کھیتوں میں فصلوں کی باقیات جلانے، صنعتی اخراج، تعمیراتی گرد، گاڑیوں کے دھوئیں اور دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی آلودگی فصل کٹائی کے موسم میں ہوا کے معیار پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔ حکومت نے اس عرصے کے لیے نگرانی اور نفاذ کو ایک مشترکہ مہم کے طور پر چلانے کا فیصلہ کیا۔

اگست کے اعداد کے مطابق ماحولیاتی حکام نے 68 صنعتی یونٹس کا معائنہ کیا اور 58 تنصیبات کی ماحولیاتی مانیٹرنگ کی۔ قوانین کی خلاف ورزی پر 18 یونٹس کو نوٹس جاری ہوئے اور چار کو سیل کیا گیا۔ حکام نے 30 تعمیراتی مقامات کا بھی معائنہ کیا، جن میں سے چھ کو ماحولیاتی تقاضے پورے نہ کرنے پر سیل کیا گیا۔ یہ اعداد سرکاری بریفنگ میں رپورٹ کردہ انتظامی کارروائیاں ہیں؛ کسی ادارے کی مستقل بندش یا حتمی عدالتی سزا کا اعلان نہیں۔

سنگل یوز پلاسٹک اور پولی تھین کے خلاف مہم میں 314 معائنے کیے گئے، 36 مقامات سیل ہوئے اور 44 کلوگرام پلاسٹک مصنوعات ضبط کی گئیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خلاف ورزیوں پر لاکھوں روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے، تاہم دستیاب رپورٹ میں جرمانوں کی مکمل مجموعی رقم یا ہر کیس کی الگ تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ متاثرہ اداروں کو متعلقہ ماحولیاتی قواعد کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔

گاڑیوں کے اخراج کے بارے میں صفر برداشت کی پالیسی برقرار رکھنے اور اینٹوں کے بھٹوں کی مقررہ معیارات کے مطابق نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ صوبائی وزیر نے شہریوں سے کہا کہ غیر معمولی دھوئیں اور دیگر ماحولیاتی خلاف ورزیوں کی اطلاع سرکاری ہیلپ لائن 1373 پر دیں، تاکہ متعلقہ ٹیم موقع پر جانچ اور قانون کے مطابق کارروائی کر سکے۔

دھان کی فصل کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے زرعی محکمہ نے علیحدہ اجلاس میں نفاذ اور کسانوں کی معاونت دونوں پر زور دیا۔ صوبائی وزیر زراعت و لائیوسٹاک سید عاشق حسین کرمانی کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے بھاری جرمانے اور باضابطہ انتباہی نوٹس کا طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ باقیات کو ماحول دوست طریقے سے سنبھالنے کے لیے رعایتی مشینری کی دستیابی بڑھائی گئی ہے۔

حکومت کے فراہم کردہ اعداد کے مطابق سپر سیڈرز کی رعایتی فلیٹ تین سال پہلے کے تقریباً 300 یونٹس سے بڑھا کر 10 ہزار تک پہنچائی گئی ہے۔ آپریشنل بیلرز کی تعداد چار سے بڑھ کر تقریباً 150 اور ہارویسٹرز کی تعداد 100 سے بڑھ کر تقریباً 450 بتائی گئی۔ سپر سیڈر فصل کی باقیات کو زمین میں شامل کرکے اگلی بوائی میں مدد دیتا ہے، جبکہ بیلر باقیات کو جمع کرکے دوسرے استعمال کے قابل بناتا ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ انتظامی نگرانی دھان کی کٹائی مکمل ہونے تک جاری رہے گی۔ تاہم نئی صوبہ گیر کارروائی کے لیے ضلع وار اہداف، معائنوں کی روزانہ تعداد یا ہر خلاف ورزی پر یکساں سزا کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ کسی مخصوص یونٹ، گاڑی، بھٹے یا کاشتکار کے خلاف حتمی کارروائی متعلقہ معائنے، ثبوت اور قابلِ اطلاق قانون کے تحت ہوگی۔

مہم کی کامیابی صرف سیلنگ اور جرمانوں سے نہیں بلکہ کھیتوں میں آگ کے واقعات، صنعتی و ٹریفک اخراج، تعمیراتی گرد، دستیاب مشینری کے حقیقی استعمال اور ہوا کے معیار کے مسلسل اعداد سے ناپی جائے گی۔ صوبائی حکومت نے اسے سموگ کے موسمی خطرے سے پہلے پیشگی نفاذ اور متبادل سہولتوں کا مشترکہ اقدام قرار دیا ہے۔