لاہور/اسلام آباد: پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی ہے تاکہ 27 ستمبر کو متوقع سیاسی احتجاج اور دیگر ممکنہ مظاہروں کے دوران صوبائی پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت دی جا سکے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے وزارت داخلہ و انسداد منشیات کو بھیجے گئے خط میں تعیناتی کی مدت 22 ستمبر سے 5 اکتوبر 2026 تک تجویز کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کے لیے رینجرز کی تین کمپنیاں طلب کی گئی ہیں، جن میں ایک راولپنڈی شہر اور دو ٹیکسلا کے لیے ہوں گی۔ اٹک کے لیے پانچ رینجرز ونگز جبکہ جہلم اور میانوالی کے لیے ایک، ایک کمپنی کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ درخواست ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ کسان اتحاد کی جانب سے بھی احتجاجی سرگرمیوں اور دھرنوں کی بات کی گئی ہے۔

پنجاب حکومت کے خط کے مطابق مجوزہ تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 4 اور 5 اور پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کی متعلقہ دفعات کے تحت مانگی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ معاملے پر پنجاب کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے امن و امان کے 20 ستمبر کو ہونے والے 59ویں اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں پولیس حکام کی صورتحال سے متعلق بریفنگ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک مقدمے میں جاری احکامات اور صوبائی سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کو بھی زیر غور لایا گیا۔

خط کے مطابق غور کے بعد وزارت داخلہ کو فوجی دستوں کی ریکوزیشن بھیجنے کی اجازت دی گئی تاکہ متعلقہ اضلاع میں امن و امان کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ وفاقی وزارت سے درخواست کی گئی ہے کہ ضروری کارروائی مکمل کر کے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ کیا جائے۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وفاقی حکومت نے اس درخواست پر حتمی منظوری دے دی ہے یا نہیں، اس لیے فی الحال اسے صوبائی حکومت کی باضابطہ ریکوزیشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

راولپنڈی ڈویژن اور وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی تیاریاں پہلے ہی جاری ہیں۔ ڈان کے مطابق اسلام آباد میں 22 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی تیاری کی گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے اٹک ضلع میں بھی بڑے پیمانے پر نفری رکھنے کا منصوبہ ہے۔ انتظامیہ کی یہ تیاری 27 ستمبر کے اعلان کردہ احتجاج سے قبل مختلف داخلی راستوں، حساس مقامات اور اہم شاہراہوں پر امن و امان برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

سیاسی جماعتوں کے احتجاج سے متعلق دعووں اور متوقع شرکا کی تعداد کے بارے میں مختلف فریق الگ الگ مؤقف رکھتے ہیں۔ حکومتی خط کا بنیادی نکتہ رینجرز کی معاون تعیناتی ہے؛ کسی ممکنہ احتجاج کے حجم یا نتائج کے بارے میں حتمی اندازہ اس مرحلے پر موجود نہیں۔