لاہور: پنجاب ریونیو اتھارٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے بھر میں 35 ہزار نئے کاروباری اداروں کو رجسٹر کیا گیا ہے، جسے اتھارٹی نے ٹیکس بنیاد وسیع کرنے کی جاری مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ نئی رجسٹریشنز کا مقصد خدمات کے شعبے میں زیادہ کاروباروں کو دستاویزی نظام میں لانا اور صوبائی محصولات کی وصولی بہتر بنانا ہے۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی صوبے میں قابل ٹیکس خدمات پر سیلز ٹیکس کی انتظامیہ اور وصولی کی ذمہ دار ہے۔ کاروبار کی رجسٹریشن ٹیکس تعمیل کے عمل کا ابتدائی مرحلہ ہے، جس کے بعد متعلقہ اداروں کو قابل اطلاق قانون کے مطابق گوشوارے جمع کرانے اور واجب الادا ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری ہو سکتی ہے۔ ہر رجسٹرڈ کاروبار کی ٹیکس ذمہ داری اس کی سرگرمی، آمدن اور قانونی زمرے کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔

35 ہزار نئی رجسٹریشنز سے ٹیکس نیٹ کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے، تاہم رجسٹریشن کی تعداد کو براہ راست اسی تناسب سے اضافی ٹیکس وصولی کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل مالی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ نئے رجسٹرڈ اداروں میں کتنے فعال ٹیکس دہندگان ہیں، ان کی قابل ٹیکس فروخت کتنی ہے اور تعمیل و وصولی کی شرح کیا رہتی ہے۔

پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹیکس بنیاد محدود ہونے کو طویل عرصے سے مالیاتی پالیسی کا ایک اہم مسئلہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ صوبائی ریونیو ادارے خاص طور پر خدمات کے شعبے میں ڈیجیٹل رجسٹریشن، ڈیٹا ملاپ اور فیلڈ سروے کے ذریعے ایسے کاروبار تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو قابل ٹیکس ہونے کے باوجود نظام سے باہر ہوں۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کی نئی رجسٹریشن مہم کا اگلا امتحان ان کاروباروں کی مستقل تعمیل اور درست ٹیکس ادائیگی ہوگا۔ ٹیکس انتظامیہ کے لیے اس عمل میں سہولت، واضح قواعد اور مؤثر نفاذ کے درمیان توازن برقرار رکھنا اہم ہوگا تاکہ دستاویزی معیشت میں اضافہ ہو اور کاروباری سرگرمی غیر ضروری رکاوٹ کا شکار نہ ہو۔