لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کے شہری علاقوں میں صفائی فیس کی وصولی کے لیے نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ستھرا پنجاب اتھارٹی اور پنجاب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے سروس لیول معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت مالی سال 2026-27 میں صفائی فیس پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ وصول کی جائے گی۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق معاہدے پر ستھرا پنجاب اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عمر جاوید اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ڈائریکٹر جنرل عمر شیر چٹھہ نے دستخط کیے۔ نئے انتظام کے تحت محکمہ ایکسائز فیس وصول کرنے کے ساتھ گھر گھر سروے، صفائی کے بلوں کی طباعت اور بلوں سے متعلق شکایات یا تصحیح کے معاملات بھی سنبھالے گا۔

حکومت نے شہری علاقوں کے لیے رہائشی جائیداد کے رقبے کے مطابق یکساں ماہانہ شرحیں مقرر کی ہیں۔ پانچ مرلے تک کے گھروں سے 300 روپے ماہانہ، پانچ سے 10 مرلے تک 500 روپے، 10 سے 20 مرلے تک ایک ہزار روپے، 20 سے 40 مرلے تک دو ہزار روپے اور 40 مرلے سے بڑی رہائشی جائیدادوں سے پانچ ہزار روپے ماہانہ صفائی فیس وصول کی جائے گی۔

تجارتی جائیدادوں کے لیے بھی الگ درجے مقرر کیے گئے ہیں۔ چھوٹے تجارتی یونٹس سے 500 روپے ماہانہ، درمیانے درجے کے یونٹس سے ایک ہزار روپے اور بڑے تجارتی یونٹس سے تین ہزار روپے ماہانہ وصول کیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ ایکسائز صفائی فیس جمع کرنے کے عوض ایک فیصد سروس چارج حاصل کرے گا۔

یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کمیٹی کے اگست میں ہونے والے 36ویں اجلاس میں کیا گیا تھا۔ نئے نظام کا مقصد صفائی خدمات کی فیس کو موجودہ پراپرٹی ٹیکس وصولی کے ڈھانچے کے ساتھ جوڑنا ہے، تاکہ الگ وصولی کے بجائے ایک قائم شدہ سرکاری نیٹ ورک استعمال کیا جا سکے۔

اس انتظام کے عملی نتائج کا انحصار شہری جائیدادوں کے درست سروے، بلنگ ریکارڈ کی بروقت درستی، شکایات کے مؤثر حل اور وصول ہونے والی فیس کے مقابلے میں صفائی خدمات کے معیار پر ہوگا۔ حکومت کے لیے یہ بھی اہم ہوگا کہ مختلف شہروں میں یکساں شرح کے نفاذ کے باوجود مقامی حالات اور خدمات کی سطح سے متعلق شہریوں کے اعتراضات کو کس طریقے سے حل کیا جاتا ہے۔ مالی سال 2026-27 میں نظام کے نفاذ کے ساتھ پہلی بار ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو صفائی فیس کی وصولی میں مرکزی کردار دیا جا رہا ہے۔