لاہور: پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں 23 ستمبر سے 5 اکتوبر 2026 تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات، سڑکوں، شاہراہوں، موٹرویز اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق جلوسوں، سیاسی ریلیوں، دھرنوں اور مظاہروں سمیت بڑے اجتماعات پر یہ پابندی فوری طور پر نافذ ہوگی۔

ایکسپریس ٹریبیون اور دیگر پاکستانی ذرائع کے مطابق پابندی کے ساتھ عوامی مقامات پر ہر قسم کے اسلحے کی نمائش اور ممنوعہ اجتماعات میں شرکت کے لیے لوگوں کو اکسانے یا بلانے پر بھی قدغن لگائی گئی ہے۔ تاہم شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کی معمول کی سرگرمیوں کو استثنا حاصل ہے۔ عدالتیں، سرکاری ادارے، باضابطہ اجازت سے ہونے والے پروگرام اور ڈیوٹی پر موجود قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی اس حکم کے دائرے سے باہر رکھے گئے ہیں۔

محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ یہ اقدام امن عامہ، شہریوں کی جان و مال اور ممکنہ سکیورٹی خطرات کے پیش نظر کیا گیا۔ نوٹیفکیشن میں انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے موصول ہونے والے خطرے کے انتباہات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں بڑے اجتماعات کو دہشت گرد حملوں کے ممکنہ اہداف قرار دیا گیا۔ یہ خطرات سرکاری مؤقف ہیں اور ان کی تفصیلات عوامی سطح پر مکمل طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

پنجاب حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ سے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں پاکستان رینجرز کی مدد بھی طلب کی ہے۔ درخواست میں راولپنڈی کے لیے تین رینجرز کمپنیاں، اٹک کے لیے پانچ ونگز اور جہلم و میانوالی کے لیے ایک، ایک کمپنی مانگی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق یہ درخواست پنجاب پولیس کی سکیورٹی معاونت کی ضرورت کے بعد کی گئی اور صوبائی کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے امن و امان نے اس کی منظوری دی۔

یہ پابندیاں ایسے وقت میں نافذ ہوئی ہیں جب 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ایک سیاسی مارچ کی کال بھی موجود ہے، تاہم سرکاری نوٹیفکیشن نے پابندیوں کی بنیاد سکیورٹی خطرات اور عوامی تحفظ کو قرار دیا ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی پر کارروائی متعلقہ قوانین کے تحت کی جا سکتی ہے اور احکامات 5 اکتوبر تک نافذ رہیں گے، جب تک انہیں پہلے واپس یا تبدیل نہ کیا جائے۔