لاہور: پنجاب میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے خصوصی ویکسینیشن مہم 13 اضلاع میں شروع کردی گئی ہے۔ مہم کا باضابطہ افتتاح نواز شریف سینٹر فار ایکسی لینس میں کیا گیا، جہاں بین الاقوامی شراکت داروں کے نمائندوں، اساتذہ اور گرل گائیڈز سے وابستہ نوجوانوں نے بھی شرکت کی۔ صوبائی حکام کے مطابق مہم کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ مقررہ اضلاع میں کوئی بھی اہل بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیو سے متعلق فوکل پرسن عظمیٰ کاردار نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں۔ ان کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے مسلسل ویکسینیشن ضروری ہے کیونکہ ایک یا چند مہمات میں قطرے پلوا دینا طویل مدتی تحفظ کے لیے کافی نہیں سمجھا جاتا اور پروگرام بار بار ویکسین دینے کے ذریعے بچوں میں وائرس کے خلاف مدافعت مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر کام کرتا ہے۔

یہ مہم ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام وائرس کی باقی ماندہ منتقلی کو روکنے کے لیے مختلف علاقوں میں ہدفی مہمات چلا رہا ہے۔ پنجاب میں خصوصی مہم کے لیے ان اضلاع کا انتخاب مقامی خطرے، نگرانی کے اعداد و شمار اور ویکسینیشن کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے، تاہم دستیاب رپورٹ میں ہر ضلع کی الگ فہرست یا مہم کے تفصیلی یومیہ اہداف جاری نہیں کیے گئے۔

پولیو پروگرام میں گھر گھر جانے والی ٹیمیں عام طور پر بچوں کو ویکسین دینے کے ساتھ والدین کو مہم کی اہمیت سے آگاہ بھی کرتی ہیں۔ مہم کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ٹیمیں تمام مقررہ آبادیوں تک پہنچ سکیں، انکار یا رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی ہو اور بعد میں فالو اپ کے ذریعے انہیں بھی قطرے پلائے جائیں۔ حکام نے خاص طور پر والدین کے تعاون کو اہم قرار دیا ہے۔

پولیو ایک وائرل بیماری ہے جو شدید صورت میں مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ اس کے خلاف دستیاب ویکسین بچوں کو تحفظ دینے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام کئی برس سے قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مہمات، ماحولیاتی نگرانی اور کیس سرویلنس کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ موجودہ پنجاب مہم اسی وسیع تر قومی کوشش کا حصہ ہے۔