نیویارک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ قطری ثالث تہران کے ساتھ زیر بحث نئی تجاویز امریکا کے سامنے رکھیں گے، جن کا مقصد ایران کی شرائط پر عمل درآمد کا ممکنہ راستہ تلاش کرنا اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے حوالے سے یہ پیش رفت رپورٹ کی ہے۔

عراقچی کے مطابق انہوں نے قطری ثالثوں کے ساتھ دوبارہ ملاقات کی جس میں ان تجاویز پر بات ہوئی کہ ایران کی شرائط کو کس طرح پورا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطری فریق یہ نکات امریکی حکام کے سامنے رکھے گا اور واشنگٹن کا جواب بعد میں تہران تک پہنچایا جائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ امریکی ردعمل جلد موصول ہو سکتا ہے، تاہم اس وقت کسی حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے سات نکاتی منصوبہ قطری ثالث کے ذریعے امریکا تک پہنچایا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ تہران باضابطہ امریکی جواب کا منتظر ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قطر اور پاکستان کے ذریعے رابطوں کے راستے کھلے رہے ہیں اور ایران کی تازہ تجویز کے بعد یہ تبادلے زیادہ سنجیدہ ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور بحری تجارت کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش یا محدود فعالیت کا اثر تیل، گیس اور شپنگ کی بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ موجودہ سفارتی رابطوں کا مقصد کشیدگی میں کمی اور جہاز رانی کی بحالی کے لیے قابل قبول شرائط تلاش کرنا ہے، مگر فریقین کے موقف میں موجود اختلافات کے باعث نتیجہ ابھی غیر یقینی ہے۔

عراقچی کے بیانات ایران کا سرکاری موقف بیان کرتے ہیں۔ امریکا یا قطر کی جانب سے ہر تفصیل کی آزادانہ توثیق دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں، اس لیے تجاویز کے مندرجات، واشنگٹن کے حتمی جواب اور آبنائے ہرمز کھولنے کے ممکنہ وقت کے بارے میں کسی پیشگی نتیجے سے گریز ضروری ہے۔ آئندہ پیش رفت باضابطہ سفارتی اعلانات سے واضح ہوگی۔