راولپنڈی: ضلع راولپنڈی میں 6.5 ارب روپے سے زائد مالیت کی ترقیاتی اسکیموں کی منظوری دی گئی ہے، جن میں مختلف علاقوں میں سڑکوں کی بحالی، تعمیر، بہتری اور توسیع کے منصوبے شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنر آفس میں پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر نے کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع راولپنڈی کے لیے مجموعی طور پر 21 اسکیموں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی مجموعی لاگت 6.5229 ارب روپے سے زائد ہے۔ ان میں سے 18 اسکیموں کی منظوری ہو چکی ہے۔ راولپنڈی میونسپل کارپوریشن کی نو ترقیاتی اسکیموں کی مالیت تقریباً 1.6 ارب روپے ہے جبکہ ضلع کونسل کی نو اسکیمیں تقریباً 4.8 ارب روپے کی ہیں۔ سڑکوں کے یہ منصوبے پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے مکمل کیے جا رہے ہیں جبکہ فنڈز متعلقہ بلدیاتی ادارے فراہم کریں گے۔
اجلاس میں پانی کی فراہمی، سیوریج اور دیگر شہری ترقی کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر عزیز اللہ خان نے پانی اور سیوریج کی جاری اسکیموں کے بارے میں بریفنگ دی، جبکہ ترقیاتی حکام نے دیگر منصوبوں کی منظوری اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔
منظور شدہ منصوبوں میں خیابان سرسید، بوکرا روڈ، ففتھ روڈ، راول روڈ، چاندنی چوک سے کمرشل مارکیٹ تک سڑک، ریلوے ورکشاپ روڈ اور گورڈن کالج روڈ کی بحالی یا بہتری شامل ہے۔ ٹیکسلا، گوجر خان، کلر سیداں اور کہوٹہ کے علاقوں میں بھی سڑکوں سے متعلق کام منصوبے کا حصہ ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی اسکیموں کو مقررہ وقت، شفاف طریقے اور مطلوبہ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کام کی رفتار کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ مقررہ معیار یا مدت کے مطابق کام نہ کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف قواعد کے تحت کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق جاری منصوبوں کے مقامات کے دورے کر کے کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا جائے گا اور سامنے آنے والے مسائل کو فوری حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ منصوبوں کی حتمی تکمیل اور عوام کو ان کے عملی فوائد کا انحصار بروقت فنڈنگ، تعمیراتی معیار اور مقررہ شیڈول پر عمل درآمد پر ہوگا۔
