راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر نے راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، آر ڈی اے، کو مالیاتی اور انتظامی امور کے لیے ڈیجیٹل مینجمنٹ نظام متعارف کرانے کی ہدایت دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مالی بے ضابطگیوں کے خطرات کم کرنا، ریکارڈ کی درستگی بہتر بنانا اور ادارے میں شفافیت، کارکردگی اور احتساب کو مضبوط کرنا بتایا گیا ہے۔
ڈان کے مطابق آر ڈی اے میں کمشنر راولپنڈی ڈویژن اور ڈائریکٹر جنرل آر ڈی اے سلمان غنی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ادارے کے مالی اور انتظامی آپریشنز کی ڈیجیٹلائزیشن کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کو ایسا ڈیجیٹل فنانشل مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی ہدایت دی گئی جو لین دین اور ریکارڈ کی نگرانی کو زیادہ مؤثر بنا سکے۔
کمشنر نے آر ڈی اے کے فنانس ونگ سے کہا کہ مالی معاملات، ریکارڈ مینجمنٹ اور سرکاری خط و کتابت میں جدید ڈیجیٹل حل اپنائے جائیں۔ ان کے مطابق دستی طریقہ کار کم کرنے سے مختلف شعبوں کے درمیان رابطہ بہتر ہو سکتا ہے اور سرکاری معاملات کی پروسیسنگ میں تاخیر کم کی جا سکتی ہے۔
اجلاس میں درست مالی ریکارڈ رکھنے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے نگرانی کے طریقہ کار مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ فنانس ونگ اور دیگر متعلقہ ڈائریکٹوریٹس کو کہا گیا کہ وہ حکومتی قواعد و ضوابط کے مطابق مجوزہ نظام کے نفاذ کے لیے باہمی رابطے سے اقدامات کریں۔ یہ ہدایت کسی مکمل نظام کے فوری آغاز کا اعلان نہیں بلکہ ڈیجیٹل تبدیلی کے نفاذ کا انتظامی فیصلہ ہے۔
حکام نے مالی منصوبہ بندی، دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال اور شعبہ جاتی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کو بھی ضروری قرار دیا۔ ترقیاتی اداروں میں زمین، ہاؤسنگ اسکیموں، ترقیاتی منصوبوں اور فیسوں سے متعلق بڑی تعداد میں مالی و انتظامی معاملات ہوتے ہیں، اس لیے ریکارڈ اور ادائیگیوں کی ڈیجیٹل ٹریکنگ سے آڈٹ اور جوابدہی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
آر ڈی اے حکام نے اجلاس میں موجودہ مالی اور انتظامی طریقہ کار میں بہتری اور ڈیجیٹلائزیشن کے ممکنہ شعبوں پر گفتگو کی۔ انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ ان مقامات کی نشاندہی کریں جہاں دستی عمل کو ڈیجیٹل نظام سے تبدیل کرنا عملی طور پر ممکن ہے اور پھر مرحلہ وار نفاذ کے لیے اقدامات تیار کریں۔
اس منصوبے کی کامیابی کا اندازہ صرف سافٹ ویئر متعارف کرانے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ کتنے مالی معاملات مکمل طور پر قابلِ سراغ ہوتے ہیں، ریکارڈ میں انسانی غلطی کتنی کم ہوتی ہے، منظوریوں میں کتنا وقت بچتا ہے اور آڈٹ یا نگرانی کے دوران معلومات کتنی آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔ فی الحال کمشنر نے ادارے کو عملی نفاذ کی تیاری اور مربوط اقدامات کی ہدایت دی ہے۔

