اسلام آباد اور راولپنڈی میں 28 ستمبر کو تازہ بارش اور تیز ہواؤں کے ایک اسپیل نے معمولاتِ زندگی متاثر کیے، جبکہ نشیبی علاقوں اور متعدد سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد کے سیدپور علاقے میں 33 ملی میٹر، گولڑہ کے قریب 25 ملی میٹر، جبکہ راولپنڈی کے پیرودھائی اور گوالمنڈی میں بالترتیب 28 اور 27 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ شمس آباد میں 29 ملی میٹر، H-8 میں 23 ملی میٹر اور I-12 میں 22 ملی میٹر بارش بھی رپورٹ ہوئی۔

راولپنڈی انتظامیہ نے بارش کے بعد متعلقہ شہری اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا اور نالہ لئی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی گئی۔ کمشنر راولپنڈی کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا کہ پانی کی سطح اور برساتی نالوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے بھی عوام کو نالہ لئی اور پانی کے تیز بہاؤ والے مقامات سے دور رہنے کی احتیاطی ہدایت جاری کی۔

دوسری جانب مقامی رپورٹس کے مطابق شدید بارش سے بعض سڑکوں اور گلیوں میں پانی کھڑا ہوگیا اور ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ کم نکاسی والے علاقوں میں صورتحال زیادہ دشوار رہی، جہاں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ بعض تعلیمی اداروں میں طلبہ کی حاضری بھی معمول سے کم رہی، جبکہ شہر کے مختلف حصوں میں بارش کے بعد نکاسی آب کے نظام پر دباؤ بڑھ گیا۔

یہ واقعہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد حالیہ مون سون سیزن میں کئی مرتبہ شدید بارش کا سامنا کر چکے ہیں۔ تاہم 28 ستمبر کا اسپیل اپنی تاریخ اور ریکارڈ شدہ مقامی بارش کے اعداد کے اعتبار سے ایک الگ واقعہ ہے۔ سابقہ بارشوں میں بھی نالہ لئی اور نشیبی علاقوں کے لیے الرٹ جاری ہوئے تھے، اس لیے انتظامیہ نے اس بار بھی احتیاطی نگرانی برقرار رکھی۔

شہری حکام نے لوگوں سے کہا کہ غیر ضروری طور پر پانی جمع ہونے والے راستوں، برساتی نالوں اور کم گہرائی دکھائی دینے والی زیرِ آب سڑکوں سے گزرنے سے گریز کریں۔ بارش کے بعد اصل خطرہ صرف فوری سیلابی صورتحال نہیں بلکہ ٹریفک حادثات، بجلی کے کھمبوں یا درختوں کے قریب خطرات اور نکاسی آب کی بندش بھی ہو سکتی ہے، اسی لیے مقامی اداروں نے فیلڈ ٹیموں کو متحرک رکھا۔