پاکستان اور بیرون ملک کام کرنے والی نو پریس فریڈم اور انسانی حقوق تنظیموں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مشترکہ خط لکھ کر ملک میں آزادیٔ صحافت کی صورت حال پر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ خط پر کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز، سیوکس، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ، فریڈم نیٹ ورک، بولو بھی اور رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کے نام شامل ہیں۔
تنظیموں نے الزام لگایا کہ حالیہ مہینوں میں بعض صحافی لاپتا ہوئے، حراست یا فوجداری تحقیقات کا سامنا کیا، بعض علاقوں میں رپورٹنگ سے روکے گئے اور کچھ افراد نے مبینہ سرکاری یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دباؤ کے باعث ملازمتیں کھوئیں۔ یہ دعوے تنظیموں کے خط میں کیے گئے ہیں؛ ہر انفرادی الزام کے بارے میں حکومتی موقف یا عدالتی نتیجہ یکساں طور پر دستیاب نہیں، اس لیے انہیں ثابت شدہ حتمی حقائق کے بجائے اٹھائے گئے خدشات کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔
خط میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحقیقات کے بڑھتے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ تنظیموں نے آزاد کشمیر میں رپورٹنگ کی پابندیوں، انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن بندشوں، براڈکاسٹرز کے خلاف ریگولیٹری کارروائی اور بین الاقوامی میڈیا کے صحافیوں کے لیے رپورٹنگ اجازت سے متعلق نئے تقاضوں پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا موقف ہے کہ قومی سلامتی، امن عامہ یا مبینہ غلط معلومات کے خلاف کارروائی کو عوامی مفاد کی صحافت محدود کرنے کے لیے غیر معینہ بنیاد نہیں بننا چاہیے۔
تنظیموں نے صحافی رازی طاہر اور محمد سیف کی فوری رہائی اور محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا، جن کے بارے میں خط میں کہا گیا ہے کہ انہیں یکم اگست کو نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ انہوں نے جون میں رپورٹر میاں زاہد اویسی پر حملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
مشترکہ خط میں غیر ملکی میڈیا پر پابندیاں ختم کرنے، معلوماتی بلیک آؤٹس کے ذریعے رپورٹنگ محدود نہ کرنے اور آزاد براڈکاسٹرز کے ادارتی امور میں مداخلت روکنے کی اپیل کی گئی۔ تنظیموں نے بعض معروف صحافیوں کے پروگرام یا ملازمت ختم ہونے اور ایک ٹی وی چینل کے لائسنس کی عارضی معطلی کو بھی اپنے خدشات کے تناظر میں پیش کیا۔ حکومت کی جانب سے اس مشترکہ خط پر تفصیلی جواب سامنے آنے کی صورت میں تنازع کے دوسرے پہلو کی مزید وضاحت ہوگی۔




