اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ متعدد قانون سازوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے رمنا پولیس اسٹیشن میں درج ایک مقدمے کی سماعت کے دوران متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔
رپورٹ کے مطابق مقدمے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے علاوہ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان، مینا خان آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی حمایت یافتہ ارکان کے نام شامل ہیں۔ عدالت نے آٹھ دیگر قانون سازوں کے لیے بھی وارنٹ جاری کیے۔ مقدمہ دہشت گردی سے متعلق دفعات کے تحت درج ہے، تاہم وارنٹ جاری ہونا کسی ملزم کے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ الزامات کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی اور شواہد کی جانچ کے بعد ہوگا۔
ناقابل ضمانت وارنٹ عام طور پر عدالت میں حاضری یقینی بنانے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں اور ان کے تحت پولیس کو متعلقہ شخص کو گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کرنے کا اختیار ملتا ہے۔ موجودہ کیس میں عدالت نے پولیس کو عمل درآمد کی ہدایت دی ہے، لیکن اس مرحلے پر دستیاب رپورٹ میں کسی حتمی سزا یا مقدمے کے فیصلے کا ذکر نہیں۔
یہ عدالتی پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسی احتجاج سے متعلق ایک الگ درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، جہاں وفاقی اور صوبائی قانونی حکام مجوزہ مارچ، شہری حقوق اور انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق دلائل دے رہے ہیں۔ دونوں عدالتی معاملات الگ قانونی کارروائیاں ہیں اور انہیں ایک ہی کیس نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مختلف مقدمات میں عدالتی کارروائی سیاسی ماحول میں بھی توجہ کا مرکز ہے۔ ایسے معاملات میں مقدمے کے اندراج، وارنٹ، گرفتاری، فرد جرم اور سزا قانونی طور پر الگ مراحل ہیں۔ اس لیے موجودہ خبر کی مصدقہ پیش رفت عدالت کی جانب سے ناقابل ضمانت وارنٹ کا اجرا ہے، نہ کہ ملزمان کے خلاف الزامات کا حتمی ثبوت۔
آئندہ مرحلے میں پولیس کی جانب سے وارنٹس پر عمل درآمد، ملزمان کی عدالت میں پیشی یا ان کی جانب سے متعلقہ قانونی فورم پر ریلیف کی درخواست اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ کسی بھی مزید عدالتی حکم کے بعد مقدمے کی قانونی حیثیت زیادہ واضح ہوگی۔




