وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے پاکستان لوکوموٹیو فیکٹری رسالپور کو عالمی معیار کے مطابق مکمل طور پر جدید بنانے اور اس کی پیداواری صلاحیت بھرپور استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ فیکٹری کے دورے کے دوران انہوں نے انجنوں کی تیاری، مرمت، بحالی اور مقامی پرزہ سازی کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا۔
وزیر ریلوے نے AGE-30 لوکوموٹیوز کی تیاری کو ترجیح دینے اور اگلے سال سے 400 ہاپر ویگن بنانے کا ہدف دیا۔ حکام کے مطابق 15 AGE-30 انجنوں کی جدید کاری جاری ہے جبکہ مزید 16 ڈیزل الیکٹرک انجنوں کی بحالی اگلے ماہ سے شروع کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔
فیکٹری انتظامیہ نے بتایا کہ 300 مختلف پرزے مقامی سطح پر تیار کیے گئے ہیں، جس سے 2.6 ارب روپے کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی۔ یہ سرکاری طور پر فراہم کردہ تخمینہ ہے۔ مقامی پرزہ سازی پاکستان ریلوے کے لیے درآمدی لاگت اور مرمت کے انتظار کا وقت کم کر سکتی ہے، بشرطیکہ معیار اور قابل اعتماد کارکردگی برقرار رہے۔
حنیف عباسی نے یہ ہدایت بھی کی کہ سال کے اختتام تک تمام ٹرینوں میں مکمل فعال بریکنگ سسٹم یقینی بنایا جائے۔ ریلوے حفاظت میں بریک، سگنلنگ، ٹریک کی حالت اور عملے کی تربیت بنیادی عناصر ہیں، اس لیے صرف فیکٹری اپ گریڈیشن کے ساتھ پورے آپریشنل نظام کی دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔
رسالپور فیکٹری کی جدید کاری پاکستان ریلوے کی مال برداری اور مسافر سروس میں مقامی صنعتی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ 400 ہاپر ویگنوں کی تیاری بالخصوص بلک کارگو اور مال برداری کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ منصوبے کی کامیابی کا انحصار فنڈنگ، خام مال، تکنیکی معیار اور مقررہ وقت میں پیداوار پر ہوگا۔




