سیول/بیجنگ: جنوبی کوریا کی سیمی کنڈکٹر کمپنیاں سام سنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس چین میں اپنی فیکٹریوں کو زیادہ جدید NAND میموری چپس بنانے کے لیے اپ گریڈ کر رہی ہیں۔ رائٹرز نے منصوبوں سے واقف چار افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دونوں کمپنیاں تیزی سے بڑھتی مصنوعی ذہانت کی طلب اور چینی حریف YMTC کے دباؤ کے جواب میں 200 سے زیادہ تہوں والی فلیش میموری کی پیداوار بڑھانا چاہتی ہیں۔

سام سنگ کا شیان پلانٹ کمپنی کی عالمی NAND پیداوار کا تقریباً 40 فیصد فراہم کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق 'مونامی' نامی منصوبے کے تحت اسے 286 تہوں والی V9 NAND چپس کے لیے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ سام سنگ نے اپ گریڈ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کام امریکی برآمدی ضوابط کی پابندی اور واشنگٹن سے قریبی مشاورت کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس کا مقصد پیداواری گنجائش بڑھانے کے بجائے موجودہ سہولت کی ٹیکنالوجی بہتر بنانا ہے۔

ایس کے ہائنکس اپنے دالیان پلانٹ میں موجودہ 192 تہوں والی مصنوعات سے آگے بڑھ کر 240 یا اس سے زیادہ تہوں والی NAND چپس بنانا چاہتی ہے۔ کمپنی نے 2021 میں انٹیل کا NAND کاروبار خریدتے وقت یہ پلانٹ حاصل کیا تھا۔ ایک ذریعے کے مطابق ایس کے ہائنکس مستقبل میں 300 سے زیادہ تہوں والی ٹیکنالوجی پر تحقیق کے لیے بھی امریکی اجازت طلب کر سکتی ہے۔

امریکا نے 2022 سے چین میں جدید چپ سازی کے آلات کی برآمد پر سخت کنٹرول نافذ کیے ہیں۔ سام سنگ اور ایس کے ہائنکس کو امریکی ساختہ آلات نصب کرنے کے لیے سالانہ لائسنس درکار ہوتے ہیں۔ امریکی بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی نے پہلے کہا تھا کہ وہ چین میں موجود غیر ملکی فیکٹریوں کو چلانے کے لیے اجازت دے سکتا ہے، لیکن صلاحیت میں توسیع یا ٹیکنالوجی اپ گریڈ کے لیے لائسنس دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

اسی دوران چینی کمپنی YMTC نے مقامی NAND مارکیٹ میں تیزی سے حصہ بڑھایا ہے۔ اومڈیا کے مطابق دوسری سہ ماہی میں اس کا حصہ 38.5 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ سام سنگ اور ایس کے ہائنکس کے حصص میں کمی آئی۔ زیادہ تہوں والی NAND چپس اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے سالڈ اسٹیٹ ڈرائیوز میں استعمال ہوتی ہیں، اور زیادہ تہیں عموماً زیادہ اسٹوریج کثافت اور کم فی یونٹ لاگت کی اجازت دیتی ہیں۔ اس لیے چین میں اپ گریڈ کی یہ دوڑ تجارتی مسابقت اور امریکا-چین ٹیکنالوجی کشیدگی دونوں سے جڑی ہوئی ہے۔