ملائیشیا نے تمام سرکاری ملازمین کے لیے گوگل کی ملکیت نیوی گیشن ایپ Waze کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ حکومت شہریوں کے ڈیٹا اور شناخت کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی اور Waze کے استعمال سے ممکنہ سکیورٹی خطرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایپ کی اسرائیلی ابتدا اور قانونی وابستگیوں کا حوالہ دیا، تاہم کسی مخصوص ڈیٹا خلاف ورزی یا ثابت شدہ جاسوسی واقعے کی تفصیل پیش نہیں کی۔

رائٹرز کے مطابق ملائیشیا کے چیف سیکریٹری ٹو گورنمنٹ شمس الازری ابو بکر کی جانب سے سرکاری اداروں کے سربراہان کو بھیجے گئے خط میں تمام سول سرونٹس کو Waze استعمال کرنے سے روکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سائبر سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا اور پابندی فوری طور پر نافذ ہوگی۔ وزیراعظم کے محکمے کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو خط کی صداقت کی تصدیق کی۔

وزیراعظم انور ابراہیم نے مقامی نیوی گیشن ایپ TuJu کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔ یہ ایپ ملائیشین ہائی وے اتھارٹی نے تیار کی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ سرکاری استعمال میں نقشہ سازی اور مقام سے متعلق ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مقامی متبادل زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔ تاہم حکام نے عوام کے لیے Waze پر عمومی پابندی کا اعلان نہیں کیا اور دستیاب ہدایت خاص طور پر سرکاری ملازمین سے متعلق ہے۔

Waze کی بنیاد اسرائیل میں رکھی گئی تھی اور 2013 میں گوگل کی مالک کمپنی Alphabet نے اسے تقریباً ایک ارب ڈالر میں خریدا تھا۔ ایپ سیٹلائٹ سگنلز اور ڈرائیوروں سے حاصل ہونے والے ہجوم پر مبنی ڈیٹا کے ذریعے حقیقی وقت میں ٹریفک اور راستوں کی معلومات فراہم کرتی ہے۔ ملائیشیا فلسطینی کاز کا مضبوط حامی ہے اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں رکھتا، جس کے باعث ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سکیورٹی کے فیصلوں میں سیاسی پس منظر بھی نمایاں ہے۔

اس فیصلے میں حکومت نے ممکنہ سکیورٹی خطرے کا حوالہ دیا ہے، مگر دستیاب رپورٹ میں Waze کی جانب سے کسی مخصوص خلاف ورزی یا ملائیشین سرکاری ڈیٹا کے غیر مجاز استعمال کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے پابندی کو حکومت کی احتیاطی سائبر سکیورٹی پالیسی کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے، نہ کہ کسی ثابت شدہ ڈیٹا چوری کے نتیجے کے طور پر۔