سنگاپور: چین کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی مون شاٹ اے آئی سنگاپور میں کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کا اشارہ کمپنی کی جانب سے اس ہفتے جاری کیے گئے ایک نئے سیلز عہدے کے اشتہار سے ملا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت چینی اے آئی کمپنیوں کی بیرونِ ملک منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی جاری کوششوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
مون شاٹ اے آئی چین کے نمایاں جنریٹو مصنوعی ذہانت کے اسٹارٹ اپس میں شمار ہوتی ہے اور اس کا صارفین کے لیے معروف چیٹ بوٹ اور اے آئی پلیٹ فارم 'کیمی' ہے۔ کمپنی نے بڑے زبان ماڈلز اور طویل متن کو سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے نظاموں پر توجہ دی ہے۔ سنگاپور میں سیلز سے متعلق تقرری اس امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کمپنی مقامی اور علاقائی کاروباری صارفین، شراکت داروں یا ڈویلپرز کے ساتھ تجارتی روابط قائم کرنا چاہتی ہے۔
سنگاپور ایشیا میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک اہم علاقائی مرکز ہے۔ مستحکم کاروباری ضابطوں، بین الاقوامی سرمایہ کاری، کثیر لسانی افرادی قوت اور جنوب مشرقی ایشیا کی بڑی منڈیوں تک رسائی کے باعث متعدد عالمی اور چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں یہاں علاقائی دفاتر چلاتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی سنگاپور حکومت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، کمپیوٹنگ صلاحیت اور اے آئی گورننس پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
چینی اے آئی کمپنیوں کے لیے بیرون ملک توسیع میں مواقع کے ساتھ ضابطہ جاتی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ مختلف ممالک ڈیٹا کے تحفظ، ماڈلز کی شفافیت، سائبر سکیورٹی اور قومی سلامتی سے متعلق نئے قواعد بنا رہے ہیں۔ اس لیے کسی نئی مارکیٹ میں داخلہ صرف صارفین حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ مقامی قانونی اور ڈیٹا گورننس تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
مون شاٹ کی جانب سے سنگاپور میں کسی مکمل علاقائی ہیڈکوارٹر یا بڑے سرمایہ کاری منصوبے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ موجودہ معلومات ملازمت کے اشتہار اور کمپنی کی کاروباری توسیع کے اشارے تک محدود ہیں، اس لیے اسے کسی بڑے آپریشنل منصوبے کی حتمی تصدیق کے بجائے سنگاپور میں تجارتی موجودگی قائم کرنے کی ابتدائی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
