اسلام آباد: پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ نے پانچ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں تقریباً ایک کروڑ 62 لاکھ ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر، یعنی اے ایم آئی، میٹر نصب کرنے کے مجوزہ 2.3 ارب ڈالر منصوبے پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لیسکو، میپکو، پیسکو، کیسکو اور ہیزکو میں سنگل فیز میٹروں کی تبدیلی کا تصور پیش کرتا ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق پی پی آئی بی کے قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر منور اقبال کمبوہ کی صدارت میں مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے نمائندے نے بھی آن لائن شرکت کی۔ حکام نے بتایا کہ میٹروں کی تیاری کے لیے حتمی ٹیکنالوجی کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، تاہم مقامی مینوفیکچرنگ کو ترجیح دینے اور بین الاقوامی کمپنیوں کو مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ اشتراک کی اجازت دینے کا تصور زیر غور ہے۔
مجوزہ ڈھانچے کے تحت میٹروں کی لاگت سنگل فیز صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے 12 سال میں وصول کی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے میں ڈالر انڈیکسیشن شامل نہ کرنے کا ارادہ ہے، تاہم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فریم ورک پر متعدد اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی کے ایک مثالی حساب کے مطابق اگر فی میٹر لاگت 40 ہزار روپے اور فنانسنگ شرح 15 فیصد فرض کی جائے تو 12 سال میں صارفین کی مجموعی ادائیگیاں تقریباً 1.4 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتی ہیں۔ فیڈریشن نے خود واضح کیا ہے کہ یہ حتمی منصوبہ لاگت نہیں بلکہ ایک illustrative estimate ہے۔
کاروباری نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ کسی درخواستِ تجاویز سے پہلے آزاد لاگت و فائدہ تجزیہ شائع کیا جائے، ادائیگیوں کو قابل تصدیق کارکردگی سے منسلک کیا جائے اور نیپرا کے ریگولیٹری عمل سے ہم آہنگی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں سائبر سکیورٹی، مقامی ٹیکنالوجی، ڈسکوز کی مشاورت اور بجلی چوری یا کم ریکوری والے علاقوں میں اسمارٹ میٹرنگ کے مؤثر ہونے سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔
پی پی آئی بی اگلے ماہ ایک پائلٹ منصوبہ شروع کرنے اور کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں مزید مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حکومت نے ابھی ٹیکنالوجی، خریداری کے حتمی انتظامات یا مکمل مالی ڈھانچے کی منظوری نہیں دی۔ اس لیے 2.3 ارب ڈالر کی رقم، 16.2 ملین میٹر اور 12 سالہ ادائیگی کا ماڈل فی الحال مجوزہ فریم ورک کے عناصر ہیں، مکمل شدہ معاہدہ نہیں۔ آئندہ فیصلوں میں نیپرا، نجکاری کمیشن، تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی رائے اہم ہوگی۔

