سیول: پاکستان نے مصنوعی ذہانت کے وسیع استعمال کے لیے ڈیجیٹل رابطہ کاری اور بنیادی انفراسٹرکچر کو مرکزی ترجیح قرار دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں گلوبل ڈیجیٹل اینڈ اے آئی سمٹ کے ایک اعلیٰ سطحی پینل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن کے تحت اے آئی کو محض سافٹ ویئر کا معاملہ نہیں بلکہ نیٹ ورک اور کمپیوٹنگ صلاحیت سے جڑا چیلنج سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مؤثر اے آئی نظام کے لیے تیز رفتار اور قابل اعتماد انٹرنیٹ، ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مقامی ڈیٹا تک رسائی اور تربیت یافتہ افرادی قوت بنیادی عناصر ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان فائبر نیٹ ورک کے پھیلاؤ، ڈیجیٹل خدمات اور نوجوانوں کی تکنیکی تربیت کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزیر مملکت کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صحت، تعلیم، زراعت، سرکاری خدمات اور کاروباری پیداوار جیسے شعبوں میں عملی طور پر استعمال کیا جائے۔ تاہم بڑے پیمانے پر اے آئی اپنانے کے لیے صرف الگورتھم یا ایپلی کیشن کافی نہیں؛ قابل اعتماد کنیکٹیویٹی، محفوظ ڈیٹا نظام اور کمپیوٹنگ وسائل بھی درکار ہوتے ہیں۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں آئی ٹی برآمدات، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل سرکاری خدمات بڑھانے کو معاشی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے۔ اے آئی کے عالمی پھیلاؤ کے ساتھ پالیسی سازوں کے سامنے ڈیٹا تحفظ، سائبر سکیورٹی، توانائی کی ضروریات، مہارتوں کی کمی اور ذمہ دارانہ استعمال جیسے سوالات بھی موجود ہیں۔ سیول میں پاکستانی نمائندگی نے ان چیلنجز کو بنیادی انفراسٹرکچر اور انسانی صلاحیت دونوں سے جوڑ کر پیش کیا۔

حکومتی بیانات میں بیان کردہ منصوبوں کی کامیابی کا عملی اندازہ مستقبل میں فائبر رسائی، انٹرنیٹ معیار، ڈیٹا سینٹر صلاحیت، تربیت یافتہ افراد کی تعداد اور حقیقی شعبوں میں اے آئی کے قابل پیمائش استعمال سے ہوگا۔ موجودہ اعلان پالیسی سمت کی وضاحت کرتا ہے؛ مخصوص منصوبوں کے بجٹ، مدت اور نتائج کی جانچ متعلقہ سرکاری دستاویزات اور آئندہ پیش رفت کے ساتھ ممکن ہوگی۔