لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک پاکستانی شہری کو لاہور سے گرفتار کیا ہے جس پر امریکا میں جعلی ڈاک لیبل فروخت کرنے کے ذریعے امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ یہ گرفتاری ایک جاری تحقیقات کا حصہ ہے اور ملزم کے خلاف الزامات کو عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے۔
این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار شخص خانیوال سے تعلق رکھتا ہے اور مبینہ طور پر اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک LabelsBank.com نامی ویب سائٹ چلاتا رہا۔ ایجنسی کے مطابق ویب سائٹ کے ذریعے 50 لاکھ سے زیادہ جعلی امریکی پوسٹیج اسٹیمپس یا لیبل آن لائن فروخت کیے گئے، جن کی فی لیبل قیمت تقریباً دو ڈالر بتائی گئی ہے۔
امریکی اٹارنی آفس، سدرن ڈسٹرکٹ آف فلوریڈا، نے گزشتہ ماہ اسی شخص کو 33 سالہ پاکستانی شہری کے طور پر شناخت کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ غیر مجاز ویب سائٹ نے جعلی امریکی ڈاک لیبل فروخت کیے اور امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا۔ امریکی فوجداری الزام اور پاکستانی گرفتاری دونوں قانونی کارروائی کے مراحل ہیں، حتمی عدالتی جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق مبینہ فروخت کی مجموعی ٹرانزیکشن ویلیو تقریباً 35 ارب روپے بنتی ہے۔ عاطف امیر نے کہا کہ تفتیش میں رقوم وصول اور منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مالی ذرائع پر بھی توجہ دی گئی۔ ان کے مطابق 16 بینک اکاؤنٹس کا سراغ ملا، جن میں ملزم اور اس کے بعض رشتہ داروں کے نام سے چلنے والے اکاؤنٹس شامل ہیں۔ ان تفصیلات کی حیثیت تفتیشی ادارے کے دعوے کی ہے۔
ایجنسی نے بتایا کہ پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، 35 مقامات پر چھاپے مارے گئے اور 47 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ تفتیش کاروں نے کال ڈیٹا، آئی ایم ای آئی ٹریکنگ اور متعدد کیمروں کی ریکارڈنگ کا بھی جائزہ لیا، جبکہ جدید ڈیجیٹل اور فرانزک طریقے استعمال کیے گئے۔
گرفتاری کے بعد مقدمے کی قانونی پیش رفت متعلقہ عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے آئندہ اقدامات سے طے ہوگی۔ اس مرحلے پر رپورٹ میں صرف سرکاری طور پر بیان کردہ گرفتاری اور الزامات کی تفصیل شامل کی جا رہی ہے، انہیں ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جا رہا۔
