بیجنگ: چین کی وزارت تجارت نے امریکی حکومت کی جانب سے چینی مصنوعی ذہانت ماڈل ڈیپ سیک کو وفاقی اداروں کے انفارمیشن ٹیکنالوجی نظاموں میں استعمال کرنے پر پابندی کے حکم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزارت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام چینی کمپنیوں کے جائز مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے اور دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔

رائٹرز کے مطابق چینی وزارت تجارت کا ردعمل منگل 20 اکتوبر کو سامنے آیا۔ بیجنگ نے امریکی اقدام کو ٹیکنالوجی اور تجارت سے متعلق دوطرفہ اختلافات کے وسیع تر تناظر میں دیکھا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، ڈیٹا سکیورٹی اور سرکاری نظاموں میں غیر ملکی ٹیکنالوجی کے استعمال پر دونوں حکومتوں کے درمیان پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔

امریکی حکم کا دائرہ وفاقی ایجنسیوں کے آئی ٹی نظاموں تک بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈیپ سیک کے ہر نجی یا تجارتی استعمال پر امریکا بھر میں مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سرکاری نظاموں کے لیے حفاظتی اور انتظامی قواعد الگ ہوتے ہیں، اس لیے فیصلے کی قانونی اور عملی حدود کو اسی مخصوص دائرے میں سمجھنا ضروری ہے۔

چین نے اس فیصلے کو اپنے کاروباری اداروں کے حقوق اور مفادات سے جوڑا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو اقتصادی اور ٹیکنالوجی معاملات کو سیاسی یا سکیورٹی تنازع میں تبدیل کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی حکومتیں حالیہ برسوں میں چینی ٹیکنالوجی سے متعلق ڈیٹا، سائبر سکیورٹی اور قومی سلامتی کے خدشات کو مختلف پابندیوں اور خریداری کے ضوابط کی بنیاد بناتی رہی ہیں۔

ڈیپ سیک نے عالمی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں کم لاگت اور مسابقتی ماڈلز کے باعث نمایاں توجہ حاصل کی ہے۔ اسی وجہ سے اس سے متعلق سرکاری فیصلے محض ایک کمپنی تک محدود نہیں رہتے بلکہ امریکا اور چین کے درمیان اے آئی کی عالمی دوڑ، کمپیوٹنگ وسائل اور ڈیجیٹل خودمختاری کے مباحث سے بھی جڑ جاتے ہیں۔

موجودہ چینی ردعمل ایک سرکاری سیاسی و تجارتی مؤقف ہے؛ اس سے امریکی حکم خود بخود منسوخ نہیں ہوتا۔ آئندہ مرحلے میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا دونوں ممالک اس معاملے پر مذاکرات کرتے ہیں یا وفاقی نظاموں میں ڈیپ سیک کے استعمال سے متعلق امریکی پابندی برقرار رہتی ہے۔