لاہور: پنجاب حکومت نے کیمرہ سے لیس سمارٹ گلاسز اور ایسی چھوٹی ریکارڈنگ ڈیوائسز کے استعمال اور فروخت پر 30 روز کے لیے پابندی عائد کردی ہے جو قلم، چابی کے چھلے یا دوسری روزمرہ اشیا کی شکل میں چھپائی گئی ہوں۔ صوبائی محکمہ داخلہ نے یہ پابندی ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کے تحت جاری کردہ حکم کے ذریعے نافذ کی۔
حکم کے مطابق کوئی شخص ایسے سمارٹ چشمے پہن یا استعمال نہیں کر سکے گا جن میں خفیہ طور پر ریکارڈنگ کی صلاحیت موجود ہو۔ اسی طرح ایسی miniature cameras پر بھی پابندی ہوگی جو بظاہر عام استعمال کی اشیا دکھائی دیتی ہوں لیکن اندر ریکارڈنگ کا نظام رکھتی ہوں۔ پابندی کا دائرہ فروخت تک بھی پھیلایا گیا ہے، جس سے متعلقہ آلات کی مارکیٹ میں دستیابی بھی عارضی طور پر محدود ہوگی۔
سرکاری حکم میں چند واضح استثنا بھی رکھے گئے ہیں۔ لیپ ٹاپ، ہاتھ میں استعمال ہونے والے ٹیبلٹس، موبائل فونز اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے منظور شدہ ٹرمینل آلات اس پابندی میں شامل نہیں۔ مجاز قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے لیے بھی سرکاری فرائض کے تناظر میں استثنا موجود ہے۔
پابندی ایسے وقت نافذ کی گئی ہے جب wearable technology اور انتہائی چھوٹے کیمروں کی دستیابی نے رازداری اور غیر محسوس ریکارڈنگ سے متعلق نئے انتظامی اور قانونی سوالات پیدا کیے ہیں۔ تاہم جاری حکم کی بنیاد اور اس کے نفاذ سے متعلق وہی نکات قابل اعتماد ہیں جو صوبائی محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن میں درج کیے گئے ہیں؛ اس سے آگے کسی مخصوص واقعے یا مبینہ غلط استعمال کو پابندی کی وجہ قرار دینا دستیاب معلومات سے ثابت نہیں ہوتا۔
پنجاب میں دفعہ 144 کے تحت عائد یہ پابندی فی الحال 30 دن کے لیے ہے۔ اس مدت کے بعد اسے برقرار رکھنے، ختم کرنے یا کسی نئی مدت کے لیے نافذ کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو الگ فیصلہ یا حکم جاری کرنا ہوگا۔ شہریوں اور فروخت کنندگان کے لیے عملی طور پر اہم بات یہ ہے کہ پابندی کا مرکز خفیہ ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے wearable اور disguised camera آلات ہیں، نہ کہ عام موبائل یا کمپیوٹنگ ڈیوائسز۔
