بلوچستان کے ساران تنگی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی میں چھ مبینہ دہشت گرد ہلاک اور نو مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ یہ تفصیلات سرکاری ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے جاری کیں، اس لیے ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے اعداد و شمار سرکاری دعوے کے طور پر رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔
ڈان کے مطابق کارروائی ’’آپریشن شعبان-2‘‘ کے تحت کی گئی۔ سرکاری رپورٹ میں کہا گیا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی گئی جنہیں ریاستی ادارے ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کی اصطلاح سے بیان کرتے ہیں۔ پاکستان نے بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح گروہوں کے لیے یہ سرکاری اصطلاح استعمال کرنا شروع کی ہے اور ان کے پیچھے بھارتی کردار کا الزام عائد کیا ہے۔ بھارت سے متعلق اس الزام کی اس مخصوص کارروائی کے تناظر میں آزادانہ تصدیق رپورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں سکیورٹی کارروائیاں جاری ہیں۔ گرفتار کیے گئے نو افراد کی شناخت، ان پر مخصوص الزامات اور ان کے خلاف آئندہ قانونی کارروائی کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ گرفتاری بذات خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں اور ان افراد کی قانونی حیثیت مزید تحقیقات سے واضح ہوگی۔
صدر آصف علی زرداری نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مہم جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی فورسز کی کارروائی کی تعریف کی۔ دونوں سرکاری بیانات میں بلوچستان میں مسلح تشدد اور بیرونی مداخلت سے متعلق حکومتی موقف دہرایا گیا۔
بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران سکیورٹی واقعات اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ماہانہ جائزے کے مطابق صوبے میں دہشت گرد حملوں کی تعداد جولائی کے 83 واقعات سے بڑھ کر اگست میں 89 ہوگئی تھی۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں سکیورٹی دباؤ کی شدت کی ایک عمومی تصویر پیش کرتے ہیں۔
ایک روز قبل پنجگور کے دو علاقوں میں بھی انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کی اطلاع دی گئی تھی جس میں حکام نے چار دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ گزشتہ ہفتے پنجگور اور چاغی میں الگ کارروائیوں میں بھی متعدد مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کی سرکاری اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
ساران تنگی کی تازہ کارروائی کے بارے میں آزاد ذرائع سے مکمل زمینی تفصیلات دستیاب نہیں ہوئیں۔ اس لیے خبر میں ہلاکتوں، گرفتاریوں، اسلحے کی برآمدگی اور گروہی وابستگی سے متعلق معلومات کو سرکاری ذرائع سے منسوب رکھا گیا ہے۔
