پاکستانی آٹو موبائل کمپنی سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ نے فلپائن میں تھری وہیلر گاڑیوں کا اسمبلی پلانٹ قائم کر دیا ہے، جو کمپنی کا پاکستان سے باہر پہلا مینوفیکچرنگ مرکز اور جنوب مشرقی ایشیا کی منڈی میں اس کی اہم توسیع ہے۔ فلپائن کے صدر فرڈینینڈ آر مارکوس جونیئر نے پلانٹ کا افتتاح کیا، جبکہ منیلا میں پاکستانی سفارت خانے نے منصوبے کو پاکستانی ساختہ گاڑیوں کی فلپائنی مارکیٹ میں باقاعدہ آمد قرار دیا۔

فلپائنی صدر کے سرکاری دفتر کے مطابق پلانٹ کو سالانہ تقریباً 12 ہزار تین پہیوں والی گاڑیاں اسمبل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پیداوار میں برقی ماڈلز کے ساتھ اندرونی احتراق کے انجن والی روایتی گاڑیاں بھی شامل ہوں گی۔ سازگار مسافر اور کمرشل تھری وہیلرز کے علاوہ الیکٹرک گاڑیاں بھی مقامی مارکیٹ میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

صدر مارکوس نے افتتاحی تقریب میں منصوبے کو فلپائن کے مینوفیکچرنگ شعبے کو مضبوط کرنے اور زیادہ صاف اور پائیدار ٹرانسپورٹ کی طرف منتقلی کے سفر کا اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے اس امر کو بھی نمایاں کیا کہ سازگار تین دہائیوں سے پاکستان میں گاڑیاں بنا رہی ہے اور کمپنی نے پاکستان سے باہر اپنے پہلے مرکز اور جنوب مشرقی ایشیا کے علاقائی ہب کے لیے فلپائن کا انتخاب کیا ہے۔

پاکستانی سفارت خانے کے مطابق منصوبے کے قیام میں سفارتی سطح پر سہولت کاری کی گئی۔ یہ پیش رفت پاکستان کی آٹو انجینئرنگ مصنوعات کے لیے روایتی برآمدی ماڈل سے آگے بڑھ کر بیرون ملک مقامی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ کی سمت ایک قدم ہے۔ مقامی اسمبلی سے کمپنی کو فلپائن کی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق پیداوار اور سپلائی کا نظام قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سازگار لاہور میں قائم پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے اور اس کی اپنی معلومات کے مطابق وہ تین پہیوں والی گاڑیاں اور پرزے 20 سے زیادہ ملکوں کو برآمد کرتی ہے، جن میں جاپان، متحدہ عرب امارات، سری لنکا اور نائجیریا شامل ہیں۔ فلپائن کا پلانٹ اس موجودہ برآمدی نیٹ ورک کے مقابلے میں زیادہ مستقل بیرون ملک صنعتی موجودگی فراہم کرتا ہے۔

منصوبے کی مجموعی سرمایہ کاری، مقامی ملازمتوں کی حتمی تعداد اور پیداوار کے مرحلہ وار اہداف کی مکمل تفصیلات دستیاب رپورٹ میں نہیں بتائی گئیں۔ تاہم سالانہ 12 ہزار گاڑیوں کی ڈیزائن صلاحیت اور برقی ماڈلز کی شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی فلپائن کو صرف فروخت کی منڈی نہیں بلکہ جنوب مشرقی ایشیا میں پیداوار اور ممکنہ علاقائی رسائی کے مرکز کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔