کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اوپن بینکنگ کے مجوزہ ضوابط کا مسودہ عوامی اور صنعتی مشاورت کے لیے جاری کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق مجوزہ فریم ورک کا مقصد مالیاتی شعبے میں جدت، مسابقت اور صارف مرکز ڈیجیٹل خدمات کو فروغ دینا ہے، جبکہ صارفین کو اپنے مالی ڈیٹا کے استعمال اور شیئرنگ پر زیادہ اختیار دینا بھی بنیادی ہدف ہے۔
مسودے میں رضامندی پر مبنی ڈیٹا شیئرنگ کا تصور شامل ہے، جس کے تحت مجاز تھرڈ پارٹی پرووائیڈرز صارف کی واضح اجازت کے بعد مخصوص مالی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اسی فریم ورک میں کاروباری ادائیگیوں کے آغاز کی سہولت بھی تجویز کی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس سے کاروبار سے کاروبار اور صارف سے کاروبار ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن میں مدد مل سکتی ہے۔
مجوزہ نظام میں مالی ڈیٹا کے نئے استعمالات بھی زیر نظر ہیں، جن میں بہتر کریڈٹ اسیسمنٹ، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے فنانسنگ تک رسائی میں بہتری اور صارف کی ضرورت کے مطابق مالی مصنوعات کی تیاری شامل ہے۔ تاہم یہ فوائد ضوابط کے حتمی متن، تکنیکی معیار، اداروں کی تیاری اور صارفین کے اعتماد سے مشروط ہوں گے۔
مرکزی بینک نے کہا ہے کہ مسودہ بین الاقوامی بہترین طریقوں اور اوپن بینکنگ سے متعلق اس کے پہلے ریگولیٹری سینڈ باکس کے نتائج کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ اس میں ڈیٹا پروٹیکشن، رازداری، سائبر سکیورٹی، فراڈ کی روک تھام اور صارف تحفظ کے لیے حفاظتی تقاضے شامل کیے گئے ہیں۔ چونکہ مالی ڈیٹا انتہائی حساس ہوتا ہے، اس لیے رضامندی کے طریقہ کار، رسائی کی حدود اور ذمہ داری کے واضح اصول اوپن بینکنگ کے عملی نفاذ میں مرکزی حیثیت رکھیں گے۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں، فن ٹیک کمپنیوں، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، صارف گروپوں، جامعات اور عام شہریوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے 30 نومبر 2026 تک رائے طلب کی ہے۔ موجودہ دستاویز ابھی مسودہ ہے اور اسے حتمی نافذ شدہ ضابطہ نہیں سمجھا جا سکتا؛ موصول ہونے والی تجاویز کے بعد مرکزی بینک فریم ورک میں تبدیلی کر سکتا ہے۔
