کراچی: وفاقی حکومت نے خواتین کی زیرِ قیادت چھوٹے کاروباروں تک قرض کی رسائی بڑھانے کے لیے ویمن مائیکروفنانس کریڈٹ گارنٹی فیسلٹی شروع کر دی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 4 ستمبر کو جاری کردہ سرکلر کے مطابق بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کی جانب سے غیر بینکی مائیکروفنانس کمپنیوں اور نان بینک فنانس کمپنیوں کو خواتین کاروباریوں کے لیے آگے قرض دینے کی غرض سے فراہم کردہ فنانسنگ کے پورٹ فولیو پر 25 فیصد تک ”فرسٹ لاس“ گارنٹی دی جائے گی۔
اس سہولت کا ڈھانچہ براہِ راست خاتون کاروباری کو سرکاری نقد امداد دینے کے بجائے قرض فراہم کرنے والے اداروں کے خطرے کا ایک حصہ برداشت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ فرسٹ لاس انتظام کے تحت اہل پورٹ فولیو میں ابتدائی نقصان کا مقررہ حصہ گارنٹی فنڈ برداشت کرے گا، جبکہ باقی خطرہ متعلقہ مالیاتی اداروں کے پاس رہے گا۔ مقصد یہ ہے کہ بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے مائیکروفنانس کمپنیوں کو زیادہ لیکویڈیٹی فراہم کریں اور وہ یہ رقم ملک بھر میں خواتین کی مائیکرو انٹرپرائزز تک پہنچا سکیں۔
رپورٹ شدہ عملی شرائط کے مطابق شریک غیر بینکی مائیکروفنانس کمپنیاں اہل خواتین کاروباریوں کو کم از کم 25 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 30 لاکھ روپے تک قرض دے سکیں گی، جبکہ قرض کی مدت 36 ماہ تک ہو سکتی ہے۔ شریک بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو گارنٹی بلا معاوضہ فراہم کی جائے گی۔ تاہم قرض کی منظوری، رقم، مدت، قیمت یا مارک اپ اور ادائیگی کا شیڈول ہر درخواست گزار کی اہلیت، کاروباری ضرورت، کریڈٹ جائزے اور متعلقہ ادارے کی پالیسی کے تابع ہوگا؛ سرکلر ہر خاتون درخواست گزار کے لیے خودکار قرض کی ضمانت نہیں دیتا۔
حکومت نے سہولت چلانے کے لیے ویمن انکلوسیو فنانس سپورٹ فنڈ ٹرسٹ قائم کیا ہے اور اسٹیٹ بینک کو اس کا ٹرسٹی مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ٹرسٹ ویمن انکلوسیو فنانس سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت موجودہ کریڈٹ لائنز اور نئی گارنٹی سہولت کا انتظام کرے گا۔ وسیع پروگرام میں پالیسی اصلاحات اور قرض جاتی سہولیات بھی شامل ہیں، جن کا ہدف خواتین کاروباریوں کی مالیاتی نظام میں نمائندگی اور رسمی قرض تک رسائی بہتر بنانا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو سرکلر کے اجرا کے 30 دن کے اندر گارنٹی حدود مختص کرانے کے لیے درخواستیں دینے کی ترغیب دی ہے۔ درخواستوں کی منظوری کے بعد شریک اداروں کو اہلیت، پورٹ فولیو کی تشکیل، ریکارڈ، دعوؤں اور باقاعدہ رپورٹنگ سے متعلق مقررہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ گارنٹی کی موجودگی قرض دینے والے ادارے کو مناسب جانچ، صارف تحفظ، ذمہ دارانہ قرض دہی اور وصولی کے قواعد سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔
اس اسکیم کی کامیابی کا اندازہ صرف مختص گارنٹی رقم سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ کتنی نئی خواتین کو قابلِ برداشت شرائط پر قرض ملا، قرض کاروباری سرگرمی میں استعمال ہوا، جغرافیائی اور شعبہ جاتی رسائی کتنی وسیع رہی اور پورٹ فولیو کی ادائیگی کی کارکردگی کیا رہی۔ فرسٹ لاس گارنٹی مالیاتی اداروں کی ہچکچاہٹ کم کر سکتی ہے، مگر کاروبار کے منافع یا قرض کی بروقت واپسی کی ضمانت نہیں۔ اس لیے آئندہ شفاف اعداد میں منظور شدہ اداروں، جاری قرضوں، اوسط رقم، نادہندگی اور گارنٹی دعوؤں کی تفصیل اہم ہوگی۔




