کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر 14 ستمبر 2026 کو کلیدی پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کے فیصلے کے وقت ملکی افراطِ زر دوبارہ دو ہندسوں میں پہنچ چکی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں، جس سے پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے درآمدی لاگت اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق اگست میں سالانہ ہیڈلائن مہنگائی 11.15 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو جولائی کے 9.2 فیصد سے زیادہ ہے اور اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے بھی اوپر ہے۔ اسی طرح 10 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریہ سالانہ بنیاد پر 8.62 فیصد بڑھا، جس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بعض غذائی اشیا کی قیمتوں کا نمایاں حصہ رہا۔

اسٹیٹ بینک نے اپریل میں عالمی توانائی قیمتوں اور سپلائی چین کے خطرات کے پیش نظر شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر ہے۔ اس سے پہلے مرکزی بینک نے 2024 کے وسط سے مہنگائی میں کمی کے دوران مجموعی طور پر شرح سود میں نمایاں کمی کی تھی۔ جون 2023 میں پالیسی ریٹ 22 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچا تھا، جب کہ بعد کے ادوار میں افراط زر کم ہونے پر مانیٹری پالیسی میں نرمی کی گئی۔

حالیہ فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی فی الحال شرح سود میں مزید تبدیلی کے بجائے مہنگائی، عالمی تیل کی قیمتوں، بیرونی ادائیگیوں اور رسد کے خطرات کے اثرات کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔ بعض مارکیٹ تجزیہ کاروں نے اجلاس سے پہلے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان ظاہر کیا تھا، تاہم کمیٹی نے موجودہ سطح برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔ تفصیلی مانیٹری پالیسی بیان میں فیصلے کی وجوہات اور آئندہ معاشی خطرات سے متعلق مزید وضاحت متوقع ہے۔