کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس سرخی کو گمراہ کن قرار دیا ہے جس میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، ایف اے ٹی ایف، نے پاکستان کے فوری ادائیگی نظام ’’راست‘‘ کو منی لانڈرنگ کا چینل قرار دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی تازہ رپورٹ میں نہ راست کو منی لانڈرنگ کا طریقہ بتایا گیا اور نہ اس کے ادائیگی ڈھانچے کی سالمیت پر کوئی مخصوص اعتراض اٹھایا گیا۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ راست کا ذکر ایک جائز مقامی ادائیگی چینل کے طور پر آیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق نظام فی الحال سرحد پار رقوم کی منتقلی فراہم نہیں کرتا، بلکہ پاکستان کے اندر ادائیگیوں اور مقامی منتقلی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے کسی غیرقانونی بین الاقوامی حوالہ نیٹ ورک کے آخری مقامی مرحلے میں راست کے استعمال کا ذکر، خود راست کو غیرقانونی نیٹ ورک یا منی لانڈرنگ نظام قرار دینے کے مترادف نہیں۔
ایف اے ٹی ایف کی ستمبر 2026 کی رپورٹ زیرزمین بینکاری، حوالہ اور اسی نوعیت کے غیر رسمی مالیاتی خدمات فراہم کنندگان کے پیشہ ورانہ منی لانڈرنگ میں ممکنہ استعمال کا جائزہ لیتی ہے۔ رپورٹ میں مختلف ملکوں کے کیس اسٹڈیز کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ مجرمانہ نیٹ ورک جائز بینک اکاؤنٹس، موبائل والٹس اور ادائیگی پلیٹ فارموں کو بھی اپنی وسیع تر غیر رسمی زنجیر کے داخلہ یا اخراج کے مقام کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
عمان سے متعلق ایک کیس میں وہاں کے مرکزی بینک کو پاکستان کے لیے مبینہ غیر لائسنس یافتہ ترسیلاتی کاروبار کی اطلاع ملی۔ ایف اے ٹی ایف رپورٹ کے مطابق مشتبہ آپریٹرز عمان میں رقم وصول کرتے، ڈیجیٹل ذرائع سے رابطہ رکھتے اور پاکستان میں وصول کنندہ کو مقامی چینلوں، جن میں راست بھی شامل تھا، کے ذریعے ادائیگی کراتے تھے۔ عمانی حکام نے چھ مشتبہ افراد کے مربوط نیٹ ورک اور ایک سال میں تقریباً 72 ہزار 293 ڈالر کے لین دین کی نشاندہی کی۔ یہ ایک کیس اسٹڈی اور حکام کی تفتیشی تفصیل ہے، راست کے خلاف ادارہ جاتی نتیجہ نہیں۔
اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف رپورٹ کا موضوع مختلف دائرۂ اختیار میں حوالہ اور زیرزمین بینکاری نیٹ ورکس کی جانب سے رسمی مالیاتی چینلوں کے ممکنہ غلط استعمال کا وسیع خطرہ ہے۔ مرکزی بینک نے ادائیگی نظاموں کی سالمیت برقرار رکھنے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق حفاظتی انتظامات کی نگرانی اور مضبوطی جاری رکھنے کا عزم بھی دہرایا۔
وضاحت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ رپورٹ میں جائز ادائیگی انفراسٹرکچر کے ممکنہ غلط استعمال کی مثال اور خود انفراسٹرکچر کو منی لانڈرنگ چینل قرار دینے میں فرق رکھا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے پہلی تعبیر کو تسلیم کرتے ہوئے دوسری، یعنی راست کے خلاف مخصوص ایف اے ٹی ایف اعتراض، کی تردید کی ہے۔




