کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں 16 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1.9 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر 21.489 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہفتہ وار اعدادوشمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس 5.344 ارب ڈالر موجود تھے، یوں ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.833 ارب ڈالر رہے۔

زرمبادلہ ذخائر پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات اور کرنسی مارکیٹ کے اعتماد کے لیے اہم اشاریہ سمجھے جاتے ہیں۔ مرکزی بینک کے ذخائر میں معمولی ہفتہ وار تبدیلیاں قرضوں کی ادائیگی، بیرونی رقوم کی وصولی، ترسیلات، برآمدی آمدن اور سرکاری مالی بہاؤ سمیت متعدد عوامل سے پیدا ہو سکتی ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ عرصے میں بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوطرفہ شراکت داروں سے مالی معاونت حاصل کی ہے۔ اس کے ساتھ حکومت برآمدات، ترسیلات زر اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کو بیرونی کھاتے کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیتی رہی ہے۔ ذخائر کی سطح میں بہتری سے درآمدی ادائیگیوں کی گنجائش اور مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی کی دستیابی کے بارے میں اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔

کمرشل بینکوں کے ذخائر مرکزی بینک کے ذخائر سے الگ شمار کیے جاتے ہیں اور دونوں کو ملا کر ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر کا اعدادوشمار تیار کیا جاتا ہے۔ تازہ رپورٹ میں کمرشل بینکوں کے پاس 5.344 ارب ڈالر موجود تھے۔ مجموعی ذخائر کا 26.833 ارب ڈالر کی سطح پر رہنا بیرونی شعبے کے لیے اہم ہے، تاہم پائیدار استحکام کے لیے برآمدی آمدن اور غیر قرضہ جاتی مالی بہاؤ میں اضافہ بھی ضروری ہے۔

آنے والے ہفتوں میں ذخائر کی سمت کا انحصار بیرونی قرضوں کی ادائیگی، سرکاری اور نجی شعبے کی وصولیوں اور عالمی توانائی قیمتوں سمیت کئی عوامل پر ہوگا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، اس لیے ذخائر میں ہونے والی ہفتہ وار تبدیلیاں پالیسی سازوں اور مالیاتی منڈیوں کی توجہ کا مرکز رہتی ہیں۔