اسکاٹ لینڈ نے 2027 آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کے عالمی کوالیفائر میں جگہ بنا لی ہے اور اب اسے جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے مرکزی ٹورنامنٹ تک پہنچنے کے لیے ایک مرحلہ عبور کرنا ہے۔ نئے ہیڈ کوچ اوون ڈاکنز کے مطابق ٹیم اس وقت اچھی پوزیشن میں ہے اور اس کے پاس بارہ سال بعد ون ڈے ورلڈ کپ میں واپسی کی صلاحیت موجود ہے۔ اسکاٹ لینڈ نے آخری مرتبہ 2015 کا ورلڈ کپ کھیلا تھا، جہاں اسے چھوں میچوں میں کامیابی نہیں ملی تھی۔

2027 کے آغاز میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر میں اسکاٹ لینڈ کو ٹاپ چار میں جگہ درکار ہوگی۔ ٹیم نے جاری کرکٹ ورلڈ کپ لیگ ٹو میں مضبوط نتائج کے ذریعے یہ مرحلہ حاصل کیا۔ لیگ ٹو بین الاقوامی پچاس اوور کرکٹ کے اس راستے کا اہم حصہ ہے جس میں ایسوسی ایٹ ٹیمیں مسلسل سیریز کھیل کر عالمی کوالیفائر تک پہنچتی ہیں۔ ایک الگ میچ کے بجائے طویل لیگ میں کارکردگی ٹیم کی گہرائی، سفر، مختلف حالات اور دباؤ میں تسلسل کا امتحان لیتی ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی حالیہ کامیابی میں بیٹنگ گروپ نمایاں رہا۔ جارج منسی، برینڈن میک مولن اور کپتان رچی بیرنگٹن نے اہم رنز بنائے، جبکہ میک مولن نے گیند سے بھی مسلسل کردار ادا کیا۔ نوجوان اسپنر لائل رابرٹسن نے کینیڈا کے خلاف اپنے ڈیبیو پر چھ وکٹیں لے کر انتخاب میں مقابلہ بڑھایا۔ حالیہ سہ فریقی سیریز میں فن میک کریتھ نے پہلی بین الاقوامی سنچری اور بیرنگٹن نے آخری میچ میں سنچری بنائی۔

ڈاکنز نے خاص طور پر قریب ختم ہونے والے میچوں میں ٹیم کے کردار کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق گزشتہ چھ فتوحات میں سے چار آخری مراحل میں حاصل ہوئیں، جو صرف اتفاق نہیں بلکہ واضح منصوبے، فٹنس اور دباؤ میں درست فیصلے کا نتیجہ ہے۔ کوالیفائر میں یہی صلاحیت اہم ہوگی کیونکہ محدود میچوں کے ٹورنامنٹ میں ایک خراب دن پوائنٹس اور نیٹ رن ریٹ دونوں پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔ اسکواڈ میں جگہ کے لیے بڑھتا مقابلہ کوچ کو مختلف حالات کے مطابق الیون منتخب کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

کوالیفائر تک پہنچنا خود ورلڈ کپ ٹکٹ نہیں، بلکہ اگلا موقع ہے۔ اسکاٹ لینڈ کو اپنی موجودہ فارم، فٹنس اور پچاس اوور کی حکمت عملی برقرار رکھنی ہوگی اور حریفوں کے خلاف ٹاپ چار نتیجہ حاصل کرنا ہوگا۔ ٹیم کی حالیہ ترقی امید مضبوط کرتی ہے، مگر حتمی پیمانہ کوالیفائر کے نتائج ہوں گے۔ کامیابی کی صورت میں اسکاٹ لینڈ 2015 کے بعد پہلی بار عالمی ون ڈے اسٹیج پر واپس آئے گا۔