سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، ایس ای سی پی، نے 28,761 کمپنیوں کو ان کے حتمی یا اصل فائدہ مند مالکان، یعنی الٹی میٹ بینیفیشل اونرز، کی معلومات مبینہ طور پر ظاہر نہ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ ریگولیٹر کے مطابق متعلقہ کمپنیوں کو نوٹس ملنے کے بعد 30 دن کے اندر فارم 19 جمع کرانا اور قانونی تقاضے کی تعمیل کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔

یہ اقدام Companies Act 2017 کی دفعہ 123A اور Companies Regulations 2024 کے ریگولیشن 48(5) سے متعلق ہے۔ ان قواعد کا مقصد کمپنی کی ظاہری قانونی ملکیت سے آگے جاکر اس فرد کی شناخت محفوظ کرنا ہے جو بالآخر حصص، ووٹنگ حقوق یا دوسرے ذرائع سے کاروبار کا مالک یا مؤثر کنٹرول رکھنے والا ہو۔ ایس ای سی پی کی وضاحت کے مطابق عموماً 25 فیصد یا اس سے زیادہ حصص یا ووٹنگ حقوق رکھنے والا فرد، یا براہِ راست یا بالواسطہ مؤثر کنٹرول استعمال کرنے والا شخص، حتمی فائدہ مند مالک کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

کمپنیوں کو فارم 19 کے ذریعے ایسی معلومات رجسٹرار کے پاس جمع کرانا ہوتی ہیں۔ یہ ڈیٹا اینٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، ٹیکس و کارپوریٹ شفافیت اور پیچیدہ ملکیتی ڈھانچوں کے پیچھے حقیقی افراد کی شناخت کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی کمپنی کا نوٹس وصول کرنا بذاتِ خود منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری یا کسی دوسرے جرم کا ثبوت نہیں؛ موجودہ کارروائی کارپوریٹ disclosure کی مبینہ عدم تعمیل سے متعلق ہے۔

ایس ای سی پی نے کہا ہے کہ 30 روزہ مدت میں مطلوبہ فارم اور ثبوت نہ دینے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی یا تعزیری کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ ’’شوکاز‘‘ کا مطلب ہے کہ ریگولیٹر نے ابتدائی طور پر جواب طلب کیا ہے اور کمپنی کو اپنی تعمیل، تاخیر کی وجہ، ریکارڈ کی غلطی یا دوسرے دفاع کی وضاحت کا موقع ملے گا۔ جرمانہ یا کوئی دوسری حتمی سزا متعلقہ قانونی عمل، جواب کے جائزے اور باقاعدہ حکم کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

نوٹسوں کی بڑی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کارپوریٹ رجسٹری میں فائدہ مند ملکیت کی reporting ایک وسیع تعمیلی مسئلہ بن چکی ہے۔ ممکن ہے بعض کمپنیوں نے معلومات کمپنی کے اندر محفوظ کی ہوں لیکن مقررہ فارم میں رجسٹرار کو نہ بھیجی ہوں، بعض ریکارڈ نامکمل یا پرانا ہو، جبکہ کچھ اداروں کی ملکیت میں تبدیلی کے بعد تازہ کاری درکار ہو۔ ایس ای سی پی نے ہر کمپنی کے معاملے کی الگ نوعیت یا مبینہ کمی کی تفصیلی فہرست عوامی بیان میں جاری نہیں کی۔

کمپنیوں کے لیے عملی تقاضا یہ ہے کہ اپنے shareholding، voting rights، نامزد حصص داروں، trusts، holding companies اور بالواسطہ کنٹرول کے سلسلے کا جائزہ لے کر حقیقی فرد تک ملکیت کی زنجیر واضح کریں۔ فارم 19 کے ساتھ ایسا دستاویزی ثبوت دینا ہوگا جو ریگولیٹر کو تعمیل کی تصدیق میں مدد دے۔ معلومات میں تبدیلی آئے تو ریکارڈ کو مقررہ مدت میں اپ ڈیٹ کرنا بھی مستقل ذمہ داری کا حصہ ہے۔

اصل فائدہ مند ملکیت کی معلومات عام کمپنی ڈائریکٹر یا قانونی حصص دار کی فہرست سے مختلف ہو سکتی ہیں، کیونکہ بعض ڈھانچوں میں ایک ادارہ دوسرے ادارے کے حصص رکھتا ہے یا اختیار کئی سطحوں سے گزرتا ہے۔ اسی لیے قوانین کا زور اس قدرتی شخص پر ہے جو آخرکار معاشی فائدہ لیتا یا کنٹرول استعمال کرتا ہے۔

تازہ پیش رفت کا تصدیق شدہ دائرہ 28,761 شوکاز نوٹس، 30 دن کی مہلت اور فارم 19 کے ذریعے تعمیل تک ہے۔ کتنی کمپنیاں جواب دیتی ہیں، کتنے معاملات ریکارڈ درست ہونے پر بند ہوتے ہیں اور کتنی کمپنیوں کے خلاف penal proceedings شروع ہوتی ہیں، اس کا حتمی عدد بعد کی ایس ای سی پی کارروائی سے واضح ہوگا۔