سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بینکنگ عدالت کسی بینک کو ایسا مارک اپ نہیں دے سکتی جس کا اصل دعویٰ، یعنی plaint، میں واضح مطالبہ نہ کیا گیا ہو۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کریسنٹ اسپننگ ملز کی اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے فروری 2019 کے فیصلے اور بینکنگ عدالت کے ترمیمی حکم کو اس حد تک کالعدم کر دیا جس میں سٹی بینک کے حق میں بعد ازاں مارک اپ شامل کیا گیا تھا۔

مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق کریسنٹ اسپننگ ملز نے 1990 سے 1995 کے دوران سٹی بینک سے مالی سہولتیں حاصل کیں اور ادائیگی طے شدہ نظام کے مطابق نہ ہونے پر بینک نے 13 نومبر 1995 کو تقریباً 7 کروڑ 62 لاکھ 41 ہزار روپے کی ریکوری کا مقدمہ دائر کیا۔ دفاع کی اجازت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد 15 اکتوبر 1999 کو اصل رقم کی ڈگری بینک کے حق میں جاری ہوئی۔

سٹی بینک کے اصل plaint میں بنیادی رقم کے ساتھ یکم اکتوبر 1995 سے 19 فیصد سالانہ liquidated damages مانگے گئے تھے، مگر عدالت نے اس اضافی مطالبے کو منظور نہیں کیا۔ بعد میں بینک نے ضابطۂ دیوانی، سی پی سی، کی دفعہ 152 کے تحت درخواست دے کر ڈگری میں مقدمہ دائر ہونے کی تاریخ سے مکمل وصولی تک مارک اپ شامل کرایا۔ لاہور ہائیکورٹ نے 7 فروری 2019 کو مل کی اپیل مسترد کرکے ترمیم برقرار رکھی، جس کے خلاف معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔

سپریم کورٹ کے 18 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ دفعہ 152 کا مقصد حسابی، کتابتی یا accidental slip جیسی غلطیوں کی درستی ہے؛ اسے مقدمہ دوبارہ سننے یا فریقوں کے substantive rights بدلنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی عدالتی فیصلے میں بنیادی قانونی غلطی یا relief رہ جائے تو اس کا مناسب راستہ review یا appeal ہے، محض clerical correction کی درخواست نہیں۔

عدالت نے ضابطۂ دیوانی کے Order VII Rule 7 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مدعی کو اپنی مطلوبہ relief واضح طور پر لکھنی ہوتی ہے تاکہ مدعا علیہ کو معلوم ہو کہ اسے کس دعوے کا دفاع کرنا ہے۔ جو relief باقاعدہ نہ مانگی جائے اسے Order II Rule 2 کے تحت ترک شدہ سمجھا جا سکتا ہے۔ صرف عمومی عبارت کہ ’’عدالت مناسب سمجھے تو کوئی اور relief بھی دے‘‘ ایسی نئی مالی ذمہ داری کی بنیاد نہیں بن سکتی جو اصل pleadings میں موجود نہ ہو۔

فیصلے میں اپیلی عدالت کے Order XLI Rule 33 کے وسیع اختیارات کی حد بھی واضح کی گئی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اپیلی فورم مکمل انصاف کے لیے حکم میں ردوبدل یا متبادل relief دے سکتا ہے، مگر ایسا نیا مقدمہ یا cause of action ایجاد نہیں کر سکتا جسے trial court میں plead ہی نہ کیا گیا ہو۔ متبادل relief تبھی ممکن ہے جب اس کے ضروری حقائق پہلے سے pleadings اور شواہد میں ہوں، مجموعی مقدمے سے ہم آہنگ ہوں اور قانون سے متصادم نہ ہوں۔

سٹی بینک کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 1997 کے متعلقہ قانون کی دفعہ 15 کے تحت مارک اپ دینا لازم تھا اور اصل ڈگری میں اس کا رہ جانا دفعہ 152 سے درست کیا جا سکتا تھا۔ کریسنٹ اسپننگ ملز نے جواب دیا کہ مقدمہ 1984 کے بینکنگ ٹربیونلز آرڈیننس کے تحت دائر ہوا اور بینک نے مارک اپ الگ relief کے طور پر مانگا ہی نہیں۔ سپریم کورٹ نے بعد والا اعتراض قبول کرتے ہوئے کہا کہ اصل prayer میں مارک اپ نہ ہونا فیصلہ کن ہے۔

عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرکے منظور کیا، لیکن relief کو واضح حد تک رکھا۔ اصل principal recovery سے متعلق 1999 کی پوری ڈگری ختم کرنے کے بجائے لاہور ہائیکورٹ اور بینکنگ عدالت کے احکامات صرف اس حصے میں منسوخ ہوئے جس سے amended decree کے ذریعے غیر مطالبہ شدہ مارک اپ شامل کیا گیا تھا۔ فیصلے کا وسیع قانونی اصول یہ ہے کہ عدالتی correction کی محدود شق کو کسی فریق کے لیے نئی substantive monetary relief پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔