اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، ایس ای سی پی، نے کہا ہے کہ اگست 2026 کے دوران ملک بھر میں 4,761 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 311,765 تک پہنچ گئی۔ ریگولیٹر کے جاری کردہ اعداد کے مطابق ماہ کے دوران تقریباً تمام، یعنی 99.9 فیصد، رجسٹریشن آن لائن نظام کے ذریعے مکمل کی گئیں۔
اگست کی تعداد جولائی 2026 کے ریکارڈ 5,438 نئے اندراجات سے 677 کم ہے۔ ماہ بہ ماہ یہ تقریباً 12.4 فیصد کمی بنتی ہے، لیکن ایس ای سی پی نے مجموعی رفتار کو کاروباری رسمیّت اور ڈیجیٹل رجسٹریشن کے تسلسل کے طور پر پیش کیا ہے۔ کسی ایک مہینے کی کمی یا اضافہ کاروباری سرگرمی کے مستقل رجحان کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا، اس لیے آئندہ مہینوں کے اعداد اور کمپنیوں کی عملی سرگرمی بھی اہم ہو گی۔
کمپنی کی قانونی نوعیت کے لحاظ سے نجی کمپنیاں سب سے بڑا حصہ رہیں۔ اگست میں 2,762 پرائیویٹ کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو کل تعداد کا تقریباً 58 فیصد ہیں، جبکہ 1,846 سنگل ممبر کمپنیاں، یعنی ایک رکن پر مشتمل کمپنیاں، رجسٹر کی گئیں۔ اس کے علاوہ 113 محدود ذمہ داری شراکت داریاں، 28 غیر منافع بخش کمپنیاں اور 12 دیگر اقسام کے ادارے شامل تھے، جن میں عوامی، غیر ملکی اور تجارتی تنظیموں سے متعلق اندراجات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
شعبہ وار تفصیل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی 872 نئی کمپنیوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی۔ تجارت کے شعبے میں 732، خدمات میں 601، تعمیرات میں 295، سیاحت میں 232، خوراک و مشروبات میں 216، ای کامرس میں 152، رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ میں 143، تعلیم میں 129 اور کان کنی و کھدائی میں 103 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ باقی 1,286 اندراجات دیگر شعبوں میں تقسیم تھے۔
جغرافیائی اعتبار سے پنجاب میں 2,547 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو قومی مجموعے کا تقریباً 53 فیصد ہیں۔ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں 843، سندھ میں 702، خیبر پختونخوا میں 407، گلگت بلتستان میں 151 اور بلوچستان میں 111 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ یہ اعداد رجسٹریشن کے پتے یا متعلقہ دائرۂ اختیار کی نمائندگی کرتے ہیں؛ ضروری نہیں کہ تمام کمپنیوں کی اصل کاروباری سرگرمی صرف اسی خطے تک محدود ہو۔
ایس ای سی پی کے مطابق اگست میں تین غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں اندراج کیا، جبکہ نئی رجسٹرڈ کمپنیوں میں 134 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔ ان میں 106 چینی سرمایہ کار بتائے گئے ہیں۔ کسی کمپنی میں غیر ملکی شخص یا ادارے کی شمولیت کو براہ راست اتنی ہی مالیت کی حقیقی براہ راست سرمایہ کاری نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ سرمایہ کی عملی آمد، ادا شدہ سرمایہ اور کاروباری منصوبے الگ اعداد میں ظاہر ہوتے ہیں۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے رجسٹریشن میں جاری اضافے کو کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کے اعتماد، ریگولیٹری سہولت اور ڈیجیٹل تبدیلی سے منسوب کیا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ای زیڈ فائل پورٹل اور وفاقی و صوبائی نظاموں کے باہمی ربط نے کمپنی قائم کرنے کا عمل آسان کیا ہے۔ یہ ریگولیٹر کا جائزہ ہے، جبکہ ڈیجیٹل نظام کی کامیابی کا وسیع پیمانہ رجسٹریشن کے وقت، بعد از رجسٹریشن تعمیل اور کاروبار کی بقا سے بھی جانچا جائے گا۔
نئی کمپنی کا اندراج معاشی سرگرمی کے لیے ایک ابتدائی قانونی قدم ہے، مگر اس سے یہ خود بخود ثابت نہیں ہوتا کہ ادارے نے پیداوار شروع کر دی، روزگار پیدا کیا یا ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ کمپنیوں کی حقیقی معاشی شراکت جانچنے کے لیے فعال ٹیکس حیثیت، سالانہ گوشواروں، ملازمت، فروخت، برآمدات اور بند ہونے یا غیر فعال رہنے والی کمپنیوں کے اعداد بھی درکار ہوتے ہیں۔
اگست کی رپورٹ کا نمایاں نتیجہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل رجسٹریشن تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور آئی ٹی و تجارت کے شعبوں میں نئے اندراجات کی تعداد زیادہ ہے۔ اگلا اہم سوال یہ ہو گا کہ ان میں سے کتنی کمپنیاں باقاعدہ کاروبار شروع کرتی، قانونی و مالیاتی تعمیل برقرار رکھتی اور سرمایہ کاری و روزگار میں قابل پیمائش اضافہ کرتی ہیں۔




