اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کہا ہے کہ اگست 2026 کے دوران ملک میں 4,761 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 311,765 تک پہنچ گئی۔ ریگولیٹر کے مطابق تقریباً تمام نئی رجسٹریشن ڈیجیٹل ذرائع سے مکمل ہوئیں اور آن لائن نظام کا حصہ 99.9 فیصد رہا۔
ایس ای سی پی کے اعداد کے مطابق نئی کمپنیوں میں 2,762 نجی کمپنیاں تھیں، جو ماہانہ رجسٹریشن کا سب سے بڑا حصہ بنتی ہیں، جبکہ 1,846 سنگل ممبر کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اس کے علاوہ لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس، نان پرافٹ اداروں اور دیگر اقسام کی کمپنیوں کی رجسٹریشن بھی ہوئی۔ تین غیر ملکی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں اپنی موجودگی رجسٹر کرائی۔
شعبہ وار اعداد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی 872 نئی کمپنیوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی۔ تجارت کے شعبے میں 732، خدمات میں 601، تعمیرات میں 295 اور سیاحت میں 232 کمپنیاں شامل ہوئیں۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ نئی کارپوریٹ رجسٹریشن صرف ایک صنعت تک محدود نہیں بلکہ مختلف خدماتی، تجارتی اور پیداواری سرگرمیوں میں پھیلی ہوئی ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے پنجاب میں سب سے زیادہ 2,547 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام آباد میں 843، سندھ میں 702، خیبر پختونخوا میں 407، گلگت بلتستان میں 151 اور بلوچستان میں 111 نئی رجسٹریشن ریکارڈ کی گئیں۔ ایس ای سی پی نے رجسٹریشن کے ڈیجیٹل عمل کو وفاقی اور صوبائی نظاموں کے انضمام اور eZfile پورٹل سے جوڑا ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرکت کے حوالے سے کمیشن نے بتایا کہ اگست میں 134 غیر ملکی سرمایہ کار نئی رجسٹرڈ کمپنیوں میں شامل ہوئے، جن میں 106 چینی سرمایہ کار تھے۔ یہ تعداد کمپنی رجسٹریشن میں غیر ملکی شمولیت کو ظاہر کرتی ہے، تاہم صرف رجسٹریشن کو عملی سرمایہ کاری، پیداوار یا روزگار کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا؛ ان اثرات کا انحصار کمپنیوں کے بعد کے کاروباری آپریشنز پر ہوگا۔
جولائی 2026 میں ایس ای سی پی نے ریکارڈ 5,438 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن رپورٹ کی تھی۔ اگست کی تعداد اس ریکارڈ سے کم ہے، مگر مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل رجسٹریشن، نظاموں کے انضمام اور کاروباری سہولت کاری سے رسمی کارپوریٹ شعبے تک رسائی آسان ہوئی ہے۔ آئندہ مہینوں کے اعداد سے واضح ہوگا کہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی موجودہ رفتار کس حد تک برقرار رہتی ہے۔




