اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ایف بی آر، نے برآمد کنندگان کے مؤخر یا زیرِ التوا سیلز ٹیکس ریفنڈز کی جانچ کا طریقۂ کار تبدیل کرتے ہوئے چار اضافی validation cycles شامل کر دیے ہیں۔ اس مقصد کے لیے SRO 1498(I)/2026 جاری کیا گیا، جس کے ذریعے سیلز ٹیکس رولز 2006 کے متعلقہ قواعد میں ترمیم کی گئی ہے۔ ایف بی آر کی ویب سائٹ پر اس نوٹیفکیشن کو قواعد 29 اور 39F میں ترمیم کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
نئے طریقۂ کار کے مطابق ریفنڈ دعوے پر آٹھ validation checks، جن میں ابتدائی جانچ بھی شامل ہے، مکمل ہونے کے بعد جو رقم کلیئر یا تصدیق نہ ہو سکے گی اسے فوراً حتمی طور پر مسترد نہیں کیا جائے گا۔ اس غیر کلیئر یا غیر تصدیق شدہ رقم پر نظام چار مزید جانچیں کرے گا۔ ہر اضافی جانچ ہفتے میں ایک مرتبہ ہوگی، یوں خودکار نظام کو دستیاب ریکارڈ، ریٹرن اور متعلقہ ڈیٹا کی دوبارہ مطابقت جانچنے کے چار نئے مواقع ملیں گے۔
اگر چاروں اضافی cycles کے بعد بھی کسی دعوے کی پوری یا جزوی رقم غیر کلیئر یا غیر تصدیق شدہ رہے تو اسے STARR ماڈیول کے تحت پروسیس کیا جائے گا۔ اس منتقلی کا مطلب خودکار منظوری یا ادائیگی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ باقی معاملہ اس ماڈیول میں نافذ الگ جانچ اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ دعوے کی حتمی قبولیت متعلقہ ریکارڈ، قابلِ اطلاق قانون اور ایف بی آر کی تصدیق پر منحصر رہے گی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق تبدیلی کا مقصد برآمد کنندگان کے مؤخر اور زیرِ التوا ریفنڈز کی ادائیگی کا عمل تیز کرنا ہے، اور اضافی جانچوں کا فیصلہ صنعت سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ رپورٹ میں کسی ایک برآمدی شعبے تک اس سہولت کو محدود کرنے کی بات نہیں کی گئی، تاہم ہر دعوے پر اطلاق اس کی قانونی اہلیت اور متعلقہ سیلز ٹیکس قواعد کے مطابق ہوگا۔
ریفنڈ برآمد کنندگان کے لیے نقدی کے بہاؤ کا اہم معاملہ ہوتا ہے کیونکہ قابلِ واپسی ان پٹ ٹیکس طویل عرصہ رکا رہے تو کاروباری سرمائے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ چار اضافی خودکار جانچوں کا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ بعد میں دستیاب یا درست ہونے والا ڈیٹا دوبارہ جانچ کے دوران دعوے سے مطابقت پا لے اور ایسا معاملہ جو ابتدائی مرحلے میں کلیئر نہ ہوا ہو، مزید انتظار یا مکمل دستی کارروائی کے بغیر آگے بڑھ سکے۔ یہ ممکنہ انتظامی فائدہ ہے؛ نوٹیفکیشن ہر دعوے کی منظوری یا ادائیگی کی ضمانت نہیں دیتا۔
نئے نظام میں وقت کا عنصر بھی واضح کیا گیا ہے: چاروں اضافی checks ایک ساتھ نہیں بلکہ ہفتہ وار وقفے سے ہوں گے۔ اس لیے ابتدائی آٹھ جانچوں کے بعد بھی غیر تصدیق شدہ رہنے والا دعویٰ زیادہ سے زیادہ چار اضافی ہفتہ وار ادوار سے گزر سکتا ہے، جس کے بعد باقی رقم STARR ماڈیول میں جائے گی۔ دستیاب رپورٹ میں STARR مرحلے کے لیے کوئی نئی حتمی مدت، زیرِ التوا ریفنڈز کی مجموعی مالیت یا ممکنہ مستفید برآمد کنندگان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔
ایف بی آر نے قواعد میں تبدیلی کے ذریعے نظامی ترتیب مقرر کی ہے، مگر ریفنڈ دعویٰ کرنے والے کاروباروں پر درست سیلز ٹیکس ریٹرن، انوائس، خرید و فروخت کا ریکارڈ اور دیگر مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کی ذمہ داری برقرار رہے گی۔ validation check میں ناکامی کی وجہ ڈیٹا میں عدم مطابقت، نامکمل تصدیق یا کسی قانونی شرط سے متعلق ہو سکتی ہے؛ ہر معاملے کی وجہ الگ ریکارڈ سے متعین ہوگی۔
تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ ایف بی آر نے SRO 1498(I)/2026 کے ذریعے ابتدائی آٹھ جانچوں کے بعد چار ہفتہ وار اضافی validation cycles لازمی ترتیب میں شامل کیے ہیں اور اس کے بعد بھی غیر کلیئر رقم کو STARR ماڈیول کے حوالے کرنے کا راستہ مقرر کیا ہے۔ اس تبدیلی کے عملی اثر کا اندازہ آئندہ ریفنڈ ادائیگیوں، اوسط پروسیسنگ وقت اور زیرِ التوا دعووں کے سرکاری اعداد سے ہوگا۔




