اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے داسو–اسلام آباد 765 کلو وولٹ ٹرانسمیشن لائن منصوبے کی سست پیش رفت، مالی لاگت، خریداری اور ادائیگیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ اور وزارتِ منصوبہ بندی کے حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کی جبکہ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے آن لائن اور حاجی ہدایت اللہ خان و کامل علی آغا نے بالمشافہ شرکت کی۔

کمیٹی نے کثیر جہتی ترقیاتی اداروں سے مالی معاونت پانے والے توانائی منصوبوں کا جائزہ لیا، جس میں داسو–اسلام آباد لائن کے لاٹ ایک سے چار تک کی تجاویز، ٹینڈرنگ، موجودہ جسمانی پیش رفت، درآمدی سامان، ہارڈویئر اور پاکستان میں 765 کے وی نظام کے لیے متعارف ہونے والے ٹیسٹنگ طریقے شامل تھے۔ کمیٹی کے ارکان نے تاخیر اور مبینہ مالی بے قاعدگیوں پر سوالات اٹھائے۔ یہ پارلیمانی خدشات اور الزامات ہیں؛ اجلاس نے کسی فرد یا ادارے کے خلاف بدعنوانی کا حتمی عدالتی یا تفتیشی نتیجہ جاری نہیں کیا۔

کمیٹی چیئرمین نے ایک مبینہ جعلی وصیت سے منسلک 2 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ریکوری کے بارے میں استفسار کیا۔ حکام نے بتایا کہ وسیع تر وصولی کے عمل میں 10 ارب روپے حاصل کیے گئے ہیں۔ دستیاب رپورٹ سے یہ پوری طرح واضح نہیں کہ دونوں رقوم کا عین قانونی تعلق کیا ہے یا کتنا واجب الادا بیلنس باقی ہے۔ چیئرمین نے سرکاری حصے کی وصولی مکمل نہ ہونے اور معلومات تک رسائی کی درخواستوں کے باوجود تفصیلات نہ ملنے پر اعتراض کیا۔

چیئرمین نے ابتدا میں معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بھیجنے کی تجویز دی، تاہم کمیٹی نے متعلقہ محکمے کو آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ باضابطہ خط لکھ کر مکمل بریفنگ حاصل کرے۔ اس کے بعد ہی کمیٹی آئندہ کارروائی، جس میں کسی تحقیقاتی ادارے کو ریفرنس بھیجنا شامل ہو سکتا ہے، کا فیصلہ کرے گی۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو ایف آئی اے تحقیقات کا آغاز قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

پاور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ سال داسو ٹرانسمیشن منصوبے کے لیے وفاقی حکومت سے 19 ارب روپے مانگے گئے تھے، جن میں سے 17 ارب روپے فراہم ہوئے۔ مزید 12 ارب روپے اجلاس سے چند روز پہلے جاری کیے گئے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے پوچھا کہ دیر سے جاری ہونے والی رقم پر مالی لاگت کتنی بڑھے گی اور تاخیر کا سودی بوجھ کس طرح حساب کیا جا رہا ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ منصوبے کے لیے عطیہ دہندگان یا مالی معاون اداروں سے مجموعی طور پر 76 ارب روپے ملے، جبکہ 9 ارب روپے سود کی مد میں ادا ہو چکے ہیں۔ انہوں نے 12 فیصد شرحِ سود کا بھی حوالہ دیا۔ یہ اعداد کمیٹی اجلاس میں پیش یا بیان کیے گئے؛ مکمل قرض معاہدوں، کرنسی اثرات اور ہر ادائیگی کی حتمی تصدیق متعلقہ مالی دستاویزات سے ہوگی۔

چیئرمین نے تعمیراتی رفتار کو انتہائی سست قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ موجودہ پیش رفت کے ساتھ لائن دو سال میں کیسے مکمل ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی تحفظات ظاہر کیے کہ ٹاورز کی متعلقہ تعمیر سے پہلے بعض درآمدی سامان اور ہارڈویئر منصوبے کے مقامات پر پہنچا دیا گیا۔ ان کے مطابق سامان کی خریداری، ذخیرہ، ادائیگی اور زمینی کام کی ترتیب کا واضح تعلق دکھانا ضروری ہے۔ حکام نے بتایا کہ منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم ہے جس میں وفاقی وزرا بھی شامل ہیں۔

کمیٹی نے نیسپاک سے لاٹ ایک تا چار میں ہر مرحلے کی سرگرمیوں اور ادائیگی کے طریقۂ کار کی تفصیل مانگی۔ حکام نے بتایا کہ مختلف کام الگ billing arrangements کے ذریعے پروسیس ہوتے ہیں اور مرحلہ وار یا روزانہ کام کی عکاسی مختلف بلوں میں کی جاتی ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ جسمانی پیش رفت، بلنگ، ادائیگی اور خریدے گئے سامان کے درمیان قابلِ جانچ ربط پیش کیا جائے تاکہ خرچ کو زمین پر مکمل کام کے مقابلے میں دیکھا جا سکے۔

اجلاس میں پاور ڈویژن کے بعض اخراجات کے مختص رقوم سے تجاوز کرنے کا معاملہ بھی اٹھا۔ کمیٹی نے کہا کہ بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں میں وزارتِ خزانہ، وزارتِ منصوبہ بندی، اقتصادی امور ڈویژن اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر نگرانی ضروری ہے۔ اس نے دونوں وزارتوں کے حکام کو اگلے اجلاس میں منصوبے کی فنانسنگ، خرچ، پیش رفت، تاخیر، سودی لاگت اور تکمیل کے اقدامات پر جامع بریفنگ دینے کے لیے طلب کیا۔

فی الحال تصدیق شدہ پارلیمانی نتیجہ کسی بدعنوانی کا فیصلہ نہیں بلکہ مزید دستاویزات اور اعلیٰ سطح کی وضاحت طلب کرنے کا حکم ہے۔ منصوبے کی حقیقی پیش رفت، واجبات، خریداری اور ذمہ داری کا حتمی تعین سرکاری ریکارڈ، آڈٹ، کسی ممکنہ تحقیقات اور بعد کے کمیٹی فیصلوں سے ہوگا۔