کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ریجنل ٹیکس آفس ٹو کراچی نے ملیر کے علاقے میں ایک مبینہ غیر قانونی سگریٹ ساز یونٹ پر انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے احاطہ سیل اور پلانٹ، مشینری، خام مال اور تیار شدہ اسٹاک ضبط کر لیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق کارروائی ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ اسکواڈ اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک، آئی آر ای این، نے کی۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائی وزیرِ اعظم، چیئرمین ایف بی آر اور ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن/چیف کوآرڈینیٹر آئی آر ای این کی ہدایات کے تحت غیر قانونی تمباکو تجارت اور ٹیکس چوری کے خلاف مہم کا حصہ تھی۔ ٹیم نے کراچی کے مضافاتی علاقے ملیر میں واقع یونٹ پر چھاپہ مارا، اسے فوری طور پر سیل کیا اور اندر موجود پیداواری سامان سرکاری تحویل میں لے لیا۔
ضبط شدہ سامان میں سگریٹ بنانے، پیکنگ، ٹوکن لگانے اور فلٹر تیار کرنے والی مشینیں، ہیوی ڈیوٹی جنریٹر اور دیگر متعلقہ آلات شامل ہیں۔ ایف بی آر نے صرف مشینری اور پلانٹ کی مجموعی مالیت تقریباً 20 کروڑ روپے بتائی۔ احاطے سے لگ بھگ 700 کلوگرام خام تمباکو اور تیار شدہ سگریٹ اسٹاک ملنے کی بھی اطلاع دی گئی، تاہم جاری بیان میں تیار شدہ اسٹاک کی درست تعداد یا الگ مالی قدر نہیں بتائی گئی۔
ایف بی آر کے ابتدائی جائزے کے مطابق نصب مشینری یومیہ تقریباً سات لاکھ سگریٹ اسٹکس بنا سکتی تھی، جو سالانہ قریب 20 کروڑ اسٹکس کی ممکنہ صلاحیت بنتی ہے۔ ادارے نے مبینہ سرگرمی سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً ایک ارب 20 کروڑ روپے محصولات کے نقصان کا تخمینہ دیا۔ یہ صلاحیت اور نقصان ابتدائی سرکاری اندازے ہیں؛ حقیقی پیداوار، فروخت، واجب الادا ڈیوٹی اور مالی نقصان کا حتمی حساب فرانزک، اکاؤنٹنگ ریکارڈ اور قانونی کارروائی کے بعد متعین ہوگا۔
انفورسمنٹ ٹیم نے فیکٹری میں نصب پلانٹ اور مشینری کو کھول کر خام و تیار شدہ اسٹاک کے ساتھ آر ٹی او ٹو کراچی کے سرکاری احاطے میں منتقل کردیا۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق کی گئی۔ ضبطی کسی سامان کی مستقل سرکاری ملکیت یا تمام متعلقہ افراد کے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ اس کی قانونی حیثیت متعلقہ ٹیکس قوانین، عدالتی احکامات اور مقدمے کے نتیجے سے طے ہوگی۔
ادارے کے مطابق مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف خصوصی جج کسٹمز و ٹیکسیشن کراچی کی عدالت کے سامنے ایف آئی آر درج کرا کے فوجداری کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ سرکاری پریس ریلیز میں ملزمان کے نام، گرفتاریوں کی تعداد یا کسی فرد کے عدالتی ریمانڈ کی تفصیل نہیں دی گئی۔ فوجداری تحقیقات جاری ہیں اور الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر ہوگی۔
کارروائی کرنے والی ٹیم کی سربراہی ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو باقر علی نے کی۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو آر ٹی او ٹو کراچی اور آئی آر ای این سندھ و بلوچستان کے ریجنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر اسلم مری نے رابطہ کاری کی، جبکہ چیف کمشنر آر ٹی او ٹو کراچی ظفر رفیق نے نگرانی کی۔ ایف بی آر نے کہا کہ غیر قانونی سگریٹ سازی، بغیر ڈیوٹی تمباکو تجارت اور ٹیکس چوری کے خلاف نفاذی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
سگریٹ ساز یونٹ پر چھاپے میں تصدیق شدہ فوری نتائج فیکٹری کا سیل ہونا، مشینری و اسٹاک کی ضبطی، سامان کی سرکاری مقام پر منتقلی اور ایف آئی آر کا اندراج ہیں۔ یونٹ کے مبینہ غیر قانونی آپریشن کی مدت، اصل پیداوار، تقسیم کے نیٹ ورک، ٹیکس نقصان اور ہر شخص کے کردار کا حتمی تعین ابھی باقی ہے۔ ان سوالات کا جواب تحقیقات، ٹیکس ریکارڈ کی جانچ اور خصوصی عدالت میں پیش ہونے والے ثبوت سے ملے گا۔




