اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، او جی ڈی سی ایل، نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے 242 ارب 37 کروڑ روپے کا بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا ہے، جو کمپنی کے مطابق اس کی اب تک کی بلند ترین سالانہ کمائی اور گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے جمعہ کو نتائج کی منظوری دیتے ہوئے چھ روپے فی حصص حتمی نقد ڈیویڈنڈ بھی تجویز کیا۔
کمپنی کی خالص فروخت 449 ارب 19 کروڑ روپے رہی جبکہ فی حصص آمدن ایک سال پہلے کے 39.50 روپے سے بڑھ کر 56.35 روپے ہوگئی۔ چھ روپے کا حتمی ڈیویڈنڈ پہلے ادا کیے گئے مجموعی 11 روپے فی حصص عبوری منافع کے علاوہ ہے۔ اس طرح پورے مالی سال کا نقد ڈیویڈنڈ 17 روپے فی حصص، یعنی حصص کی اصل قدر کے حساب سے 170 فیصد، بنتا ہے۔ حتمی ادائیگی متعلقہ کارپوریٹ منظوری اور اہل حصص یافتگان کے ریکارڈ کے مطابق ہوگی۔
او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ اس نے کارپوریٹ ٹیکس، ڈیویڈنڈ، رائلٹی اور دیگر سرکاری محصولات کی مد میں قومی خزانے کو 187 ارب روپے دیے۔ کمپنی کے تیل و گیس کی ملکی پیداوار سے درآمدی متبادل کے ذریعے 3.31 ارب ڈالر کے مساوی زرمبادلہ کی بچت کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا۔ یہ زرمبادلہ بچت کمپنی کا حسابی تخمینہ ہے، براہِ راست نقد آمدن یا مرکزی بینک کے ذخائر میں اتنی ہی رقم کے اضافے کے مترادف نہیں۔
کمپنی کے مطابق سال کے دوران مجموعی وصولیاں 577 ارب روپے رہیں اور collection rate 107 فیصد ریکارڈ ہوا۔ سو فیصد سے بلند شرح اس بات کی عکاسی کر سکتی ہے کہ موجودہ فروخت کے ساتھ گزشتہ واجبات بھی وصول ہوئے؛ اسے فروخت کی شرحِ نمو یا منافع کے مساوی پیمانہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مالی سال میں او جی ڈی سی ایل کے حصص کی قیمت 52 فیصد بڑھی، جبکہ اسی مدت میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔ 30 جون کو کمپنی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن تقریباً 1.44 ٹریلین روپے بتائی گئی۔
آپریشنل محاذ پر کمپنی نے نو تیل و گیس دریافتوں کی اطلاع دی، جن سے 2P، یعنی ثابت شدہ اور ممکنہ، ذخائر میں 120 ملین بیرل تیل کے مساوی اضافہ ہوا۔ او جی ڈی سی ایل نے reserve replacement ratio 236 فیصد بتایا، جس کا مطلب اس کے حساب کے مطابق سال میں نکالی گئی مقدار کے مقابلے میں کہیں زیادہ نئے قابلِ شمار ذخائر شامل ہونا ہے۔ ذخائر کے تخمینے ارضیاتی، تکنیکی اور معاشی مفروضوں کے تابع ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ نظرثانی ہو سکتی ہے۔
کمپنی نے 23 کنوؤں پر کام شروع کیا اور مجموعی طور پر 58 ہزار 333 میٹر ڈرلنگ کی، جسے گزشتہ پانچ برس کی بلند ترین سطح قرار دیا گیا۔ مزید 15 دریافت و تلاش بلاکس میں مفادات بھی حاصل کیے گئے۔ اوسط یومیہ قابلِ فروخت پیداوار 32 ہزار 861 بیرل خام تیل، 667 ملین مکعب فٹ گیس اور 670 ٹن ایل پی جی رہی۔ کمپنی کے مطابق یہ مقداریں بالترتیب 6.3 فیصد، 2.3 فیصد اور 4.4 فیصد سالانہ اضافے کو ظاہر کرتی ہیں، حالانکہ بعض اوقات پیداوار محدود بھی کی گئی۔
اپریل 2026 میں مجموعی خام تیل کی پیداوار 40 ہزار بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی، جو 27 سہ ماہیوں میں پہلی بار ہوا۔ اسی ماہ بارگ زئی ایکس ون سے پیداوار شروع ہوئی۔ رپورٹ کے وقت یہ کنواں تقریباً 5 ہزار 968 بیرل تیل، 17 ملین مکعب فٹ گیس اور 60 ٹن ایل پی جی یومیہ دے رہا تھا، جبکہ اس کی پانچ پیداواری تہوں کی مشترکہ ممکنہ صلاحیت 15 ہزار بیرل تیل اور 45 ملین مکعب فٹ گیس یومیہ بتائی گئی۔ ممکنہ صلاحیت کو موجودہ مستحکم پیداوار نہیں سمجھا جا سکتا۔
مالی سال میں جھل مگسی ترقیاتی منصوبہ فعال کیا گیا اور ڈھکنی فرنٹ اینڈ کمپریشن منصوبہ مکمل ہوا۔ کمپنی نے کنر پساخی میں بہتر تیل بازیابی، راجیان کے بھاری تیل کے ذخیرے کی بحالی، shale اور tight gas پروگرام، ریکوڈک میں شرکت اور ابوظبی آف شور بلاک 5 میں مفادات کو اپنی طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ بتایا۔ ان منصوبوں سے مستقبل کے نتائج انفرادی تکنیکی، مالی اور ریگولیٹری پیش رفت پر منحصر ہوں گے۔
بورڈ کے منظور کردہ نتائج او جی ڈی سی ایل کی مالی اور آپریشنل کارکردگی کا کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ریکارڈ ہیں۔ آئندہ مرحلے میں حتمی ڈیویڈنڈ کی کارپوریٹ منظوری، آڈٹ شدہ کھاتوں کی تفصیلی جانچ اور پیداوار و ذخائر کے آئندہ ادوار کے اعداد سے یہ واضح ہوگا کہ ریکارڈ منافع کس حد تک برقرار رہتا ہے۔




