راولپنڈی: فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران مختلف سکیورٹی کارروائیوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار سرکاری فوجی بیان پر مبنی ہیں اور آزاد ذرائع سے ہر کارروائی کی الگ تصدیق دستیاب نہیں۔

جیو نیوز اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق کارروائیاں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کی گئیں اور ان کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ آئی ایس پی آر نے بعض ہلاک افراد کو بھارت کی سرپرستی یافتہ گروہوں سے منسلک قرار دیا؛ یہ نسبت پاکستانی فوج کا سرکاری مؤقف ہے۔

بیان کے مطابق شعبان کے علاقے میں 24 ستمبر کو ہونے والی ایک کارروائی میں پانچ دہشت گرد مارے گئے تھے، جس کے بعد اس وقت جاری آپریشن شعبان میں ہلاکتوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی تھی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس کارروائی جاری رکھنے کا بھی بتایا۔

اس سے قبل نوشکی سمیت دیگر علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کی تفصیلات بھی جاری کی گئی تھیں۔ فوجی بیان کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد مسلح گروہوں کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور حملوں کی صلاحیت کو نشانہ بنانا تھا۔ مختلف کارروائیوں کے مجموعی اعداد کو ملا کر 96 گھنٹوں میں 71 سے زیادہ ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا۔

بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، مواصلاتی ڈھانچے اور شہری اہداف پر متعدد حملے ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکام بعض مسلح تنظیموں کے لیے بیرونی حمایت کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ متعلقہ الزامات بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر متنازع رہے ہیں اور ہر واقعے میں آزادانہ شواہد یکساں طور پر دستیاب نہیں ہوتے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ برآمد شدہ سامان میں ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد شامل تھا۔ سرکاری بیان میں کلیئرنس آپریشن جاری رکھنے اور علاقے میں باقی خطرات کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

موجودہ اعداد و شمار کو سکیورٹی فورسز کے سرکاری آپریشنل ریکارڈ کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ کسی مخصوص ہلاک شخص کی شناخت، اس کے خلاف ثبوت یا ہر مقام پر ہونے والی جھڑپ کی مکمل آزاد تفصیل دستیاب نہیں، اس لیے رپورٹ میں سرکاری دعوؤں اور تصدیق شدہ نتائج کے درمیان فرق برقرار رکھا گیا ہے۔