گوادر: پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے اطراف سکیورٹی فورسز کی الگ کارروائیوں میں 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ فوجی بیان کے مطابق یہ واقعات 22 اکتوبر کو پیش آئے، جب مسلح افراد نے علاقے میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے کی کوشش کی۔ آئی ایس پی آر نے ان عناصر کو سرکاری اصطلاح میں ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے منسلک قرار دیا اور بھارت کی سرپرستی کا الزام عائد کیا؛ یہ نسبت پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے اور اسے اسی حیثیت سے بیان کیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی سرگرمیوں کا جواب دیتے ہوئے مختلف مقامات پر کارروائی کی اور مجموعی طور پر 10 افراد مارے گئے۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ کارروائیوں کا مقصد گوادر میں ریاست کی عمل داری کو متاثر کرنے کی کوشش ناکام بنانا تھا۔ دستیاب سرکاری تفصیلات کے مطابق واقعات گبد بارڈر کراسنگ کے عمومی علاقے اور گوادر شہر میں ہوئے۔

رپورٹس میں ایک شہری کے ہلاک ہونے اور بعض گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کا بھی ذکر سامنے آیا ہے۔ سکیورٹی واقعات میں ہلاکتوں اور ذمہ داری سے متعلق ابتدائی معلومات عموماً سرکاری اداروں، مقامی انتظامیہ اور بعد کی تحقیقات سے مزید واضح ہوتی ہیں، اس لیے فوجی بیان سے منسوب دعووں اور آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، مواصلاتی ڈھانچے اور شہری اہداف پر حملوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ گوادر اپنی بندرگاہ، ساحلی محل وقوع اور علاقائی تجارتی منصوبوں کے باعث سکیورٹی کے لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے، جبکہ گبد بارڈر کراسنگ ایران سے ملحق سرحدی نقل و حرکت کے لیے اہم مقام ہے۔ ایسے علاقوں میں حملے نہ صرف جانی نقصان بلکہ تجارت اور مقامی آمدورفت کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے کارروائیوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف مہم جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس واقعے کے بارے میں دستیاب بنیادی سرکاری مؤقف فوجی ترجمان کا ہے؛ کسی گروہ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے یا تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق سے متعلق قابل اعتماد معلومات سامنے آنے پر واقعے کی تصویر مزید مکمل ہوسکے گی۔